سپریم کورٹ : مشرف کا ضبط فارم ہاؤس کھولنے، رینجرز سیکورٹی فراہم کرنے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کا اسلام آباد میں ضبط شدہ فارم ہاؤس کھولنے کا حکم دے دیا ہے، عدالت کا کہنا پرویزمشرف کو واپسی پررینجرز کی سیکورٹی اور اپنی مرضی کے اسپتال سے علاج کی سہولت ہوگی۔ ان کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کا تاثرغلط ہے۔ عدالتوں کےاحترام کا باتوں سے نہیں رویئے سے پتہ چلتا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے این آر او کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے کہاکہ پرویزمشرف کے آنے سے پہلے ان کے گھر کی صفائی ستھرائی کی جائے گی، ایڈووکیٹ نعیم بخاری اس عمل کا جائزہ لیں گے۔

چیف جسٹس ثاقب نثارنے کہاکہ پرویز مشرف واپسی کیلئے جوانتظامات چاہتے ہیں وہ کر کے دیں گے،سپریم کورٹ سابق صدر کی سیکورٹی یقینی بنائے گی، یہاں آ کراپنا بیان قلمبند کرائیں پھرجہاں چاہے گھومیں پھریں، ان سے ان کے اثاثوں کا بھی نہیں پوچھیں گے۔

سابق صدر کے وکیل اختر شاہ نے موقف اپنایا کہ وہ بزدل نہیں، انکے آنے جانے پرپابندی نہ لگائی جاتے تو وہ واپس آسکتے ہیں،، انہوں نے بتایا کہ پرویز مشرف دبئی میں 54 لاکھ درہم کا فلیٹ ہے، پاکستان میں کوئی جائیداد نہیں، چک شہزاد میں پانچ چھ ایکڑ پر محیط فارم ہاؤس ان کی اہلیہ کے نام ہے جس کی مالیت 4 کروڑ 36 لاکھ روپے ہے،، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا وہ فارم ہاؤس 4 کروڑ میں بیچیں گے؟ سابق جنرل یہاں سے ریڑھ کی ہڈی میں درد کا بہانہ کرکے نکل گئے، بیرون ملک جا ڈانس کرتے ہیں۔

اختر شاہ نے کہا کہ پاکستان آنے سے پہلے ان کو سکیورٹی چاہیے، وہ عدالتوں کی عزت کرتے ہیں۔۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا پرویز مشرف کو ایک بریگیڈ دے دیں، عدالتوں کے احترام کا باتوں سے نہیں رویئے سے پتہ چلتا ہے۔ کیا پرویز مشرف کے لیے علیحدہ قانون ہے؟

عدالت نے قرار دیا کہ پرویز مشرف پاکستان میں کہیں بھی اتریں رینجرز کی سیکورٹی مہیا کی جائے، وہ چاہیں تو سی ایم ایچ یا اے ایف آئی سی سے علاج کرائیں۔ ان سے اثاثوں کے بارے میں بھی نہیں پوچھا جائے گا۔ پرویز مشرف کی واپسی کا شیڈول بتائیں۔

جس پر اختر شاہ نے ایک ہفتے کا وقت دینے کی استدعا کی جسے منظور کرتے ہوئے عدالت نے پرویز مشرف کی حد تک معاملے کی سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کردی۔

Comments are closed.