اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سیاستدانوں کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ۔ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسیٰ نے کہاہے کہ پارلیمنٹ نے مدت نہیں لکھی تو نااہلی تاحیات کیوں۔ کسی کو تاحیات نااہل کرنا اسلام کے خلاف ہے۔ توبہ کا راستہ خدا نے بند نہیں کیا توعدالت کیسےکرسکتی ہے۔ اگر الیکشن کمیشن تاحیات نااہل کرسکتا ہے تو اختیار سپریم کورٹ کے پاس بھی ہوگا۔
دوران سماعت درخواست گزار فیاض احمد غوری اور سجاد الحسن کے وکیل خرم رضا نے عدالتی دائرہ اختیار پر سوال اٹھایا۔ کہا سپریم کورٹ یہ کیس کس دائرہ اختیار پر سن رہی ہے؟ کیا آرٹیکل 187 کے تحت اپیلیں ایک ساتھ سماعت کے لیے مقرر کی گئیں۔ پارلیمانی بحث میں تسلیم کیا گیا 62 ون ایف مدت پر خاموش ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس د ئیے کہ آمروں نے سیاستدانوں کو نااہل کرنے کاقانون بنوایا ۔ آمروں نے صادق و آمین کی شرط اپنے لیے کیوں نہیں رکھی۔ وکیل خرم رضا نے آئینی ترامیم کا حوالہ دیا جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ رہنے دیں، ترامیم بھی گن پوائنٹ پر آئیں۔ آئین کا تقدس تب ہو گا جب اسے ہم مانیں گے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالتی ڈیکلریشن کے بغیر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق ہی نہیں ہوسکتا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ تاحیات نااہلی کے فیصلے کی بنیاد ڈیکلریشن ہے جس کی معیاد اب مقرر کی گئی ہے۔
محمد عثمان کریم نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ نے نااہلی کی مدت کے تعین کی درست تشریح نہیں کی لہذا اب تاحیات نااہلی کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے۔ عدالت نےمزید سماعت جمعہ کی صبح ساڑھے 9بجے تک ملتوی کردی۔
Comments are closed.