سی پیک منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لے کر بلوچستان کو پورا حق دیا جائے گا، وزیراعظم

 کوئٹہ: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لیا جارہا ہے سی پیک میں بلوچستان کو اس کا پورا حق دیا جائے گا، نیا بلدیاتی نظام لائیں گے اور کینسر اسپتال بھی بنائیں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے دورہ کوئٹہ کے دوران بلوچستان کی صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کی۔ جس میں چیف سیکریٹری بلوچستان نے وزیراعظم عمران خان کو صوبے کے ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں  قدرتی وسائل استعمال کرکے غربت و پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہے اراکین بلوچستان اسمبلی مسائل کے حل کے لیے موثرقانون سازی کریں، کوئٹہ میں پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے ترجیحی اقدامات کی ضرورت ہے، سی پیک منصوبوں کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس میں بلوچستان کو اس کا پورا حق دیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان سے گورنر بلوچستان جسٹس (ر) امان اللہ خان اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام محمد کمال نے الگ الگ ملاقاتیں بھی کی جن میں بلوچستان کی مجموعی صورتحال اور صوبے میں ترقیاتی اور فلاح عامہ کے منصوبوں کی رفتار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دریں اثنا عمائدین، ججز، سول سوسائٹی سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان کی ترقی پر توجہ نہیں دی گئی، سابقہ حکومتوں کی جانب سے بلوچستان کی ترقی کے لیے مختص فنڈز اگر انہیں ٹھیک طرح ملتا تو آج صوبہ ترقی کرچکا ہوتا، بلوچستان کے لوگوں کی مدد کرنے کے لیے ہرممکن کوشش کروں گا، سب سے زیادہ بلوچستان کے لوگوں پر پیسہ خرچ کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت انسانی وسائل کو بہتر کیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جو بلدیاتی نظام ہم پنجاب اور کے پی کے میں لائیں گے ان ہی خطوط پر بلوچستان میں بھی بلدیاتی نظام لایا جائے، ویلیج کونسلز بنائی جائیں انہیں براہ راست فنڈ پہنچایا جائے، بلوچستان میں موجود معدنیات کا تخمینہ ساڑھے چار سو ارب ڈالر کا ہے، ابھی تیل و گیس کی نکالنے کا عمل جاری ہے۔

عمران خان نے کہا کہ دریائے سندھ سے کچھی کینال کے ذریعے بلوچستان کا پانی کا حصہ بحال ہوجائے تو چار لاکھ کینال اراضی کاشت کے قابل ہونے سے صوے میں خوشحالی آئے گی، بلوچستان کی مالی مدد کے لیے وفاق ہر ممکن تعاون کرے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے سبب صوبے میں بڑا نقصان ہوا، ڈاکٹرز، پروفیسرز اور دیگر پروفیشنلز صوبہ چھوڑ گئے، کینسر اسپتال کی یہاں بڑی ضرورت ہے، شوکت خانم کے سی ای او کو یہاں بھیج کر جائزہ لیں گے، پروفیشنلز باہر سے یہاں لائیں گے یہاں کینسر اسپتال بنائیں گے جس کی یہاں بڑی ضرورت ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ کرپشن ایک بڑا مسئلہ ہے جس کے لیے ملکی ادارے بھی تباہ کرنے پڑتے ہیں، چند برس میں ملکی قرضہ 6 ہزار ارب سے 28 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا، بلوچستان میں کرپشن کے خلاف کام کیا جائے، فنڈز پر نظر رکھی جائے۔

Comments are closed.