مبہم ذرائع آمدن و سرگرمیوں پر 18 این جی اوز کو پاکستان چھوڑنے کا حکم

اسلام آباد: حکومت نے 18 بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیموں کو دو ماہ میں پاکستان چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان این جی اوز کے ذرائع آمدن اور سرگرمیاں واضح نہ ہونے پر انہیں کام بند کر کے ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

امریکی این جی اوز میں سینٹر فار انٹرنیشنل پرائیویٹ انٹرپرائز، انٹرنیوز نیٹ ورک، پاتھ فائینڈر انٹرنیشنل،سینٹرل ایشیا ایجوکیشن، امریکن سینٹر فار انٹرنیشنل لیبر سولیڈیرٹی، ورلڈ وژن، کیتھولک ریلیف سروس، پلان انٹرنیشنل، انٹرنیشنل ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ  شامل ہیں۔

برطانوی این جی اوز انٹرنیشنل الرٹ، سیف ورلڈ، ایکشن ایڈ، نیدرلینڈ کی سٹچنگ بریس انٹرنیشنل،رٹجرزکو بھی پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، آئرلینڈ کی ٹریکائر، ڈنمارک کی ڈینشن رفیوجی کونسل، سوئٹزرلینڈ کی فاؤنڈیشن اوپن سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ اور اٹلی کی آئی ایس سی او ایس ٹریڈ یونیز انسٹی ٹیوٹ فار ڈویلپمنٹ کوپ کو بھی پاکستان میں آپریشنز بند کرنے کا کہا گیا ہے۔

جب کہ 72 بین الاقوامی این جی اوز پر پابندی برقراررکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ جن این جی اوز کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے ان 18 تنظیموں میں سے 9 کا تعلق امریکا، 3 کا برطانیہ اور دو کا ہالینڈ سے ہے جبکہ آئرلینڈ، ڈنمارک، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ کی ایک ایک تنظیم بھی ان میں شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے 141 این جی اوز کو پاکستان میں کام جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے جن میں 66 غیر ملکی این جی اوز بھی شامل ہیں۔ 72 این جی اوز کے کاغذات کو نامکمل قراردے کر انہیں کاغذات مکمل کرنے کیلئے مہلت دی گئی ہے۔

۔68 انٹرنیشنل این جی اوز نے پاکستان کے قواعد وضوابط تسلیم کرلیے ہیں جس کے تحت انہیں وزارت داخلہ کی آڈٹ فرمز سے سالانہ آڈٹ کرانا ہوگا۔ ان تنظیموں نے وزارت داخلہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط بھی کردیے ہیں۔

Comments are closed.