وزیرخارجہ شاہ محمود کی صدرٹرمپ سےملاقات، دوطرفہ تعلقات کے آغازپراتفاق

مانیٹرنگ ڈیسک

نیویارک: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور امریکی صدر کے درمیان غیررسمی ملاقات ہوی ہے جس میں دوطرفہ تعلقات کے نئے سرے سے آغاز پر اتفاق کیا گیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ صدر ٹرمپ سے ان کی ملاقات گزشتہ رات استقبالیہ کے دوران ہوئی جس میں پاک امریکا تعلقات پر گفتگو کا موقع ملا۔ انہوں نے امریکی صدر سے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات کا دوبارہ آغاز چاہتا ہے، صدر ٹرمپ نے ان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بھی پاکستان کے ساتھ از سرنو تعلقات قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، شاہ محمود قریشی کے مطابق امریکی صدر کا رویہ بڑا مثبت تھا

وزیر خارجہ شاہ محمود کی اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے بھی ملاقات ہوئی جس میں تعلقات کی بحالی پر گفتگو کی گئی ۔ شاہ محمود قریشی کی 2 اکتوبر کو مائیک پومپیو سے دوسری ملاقات طے ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے 25 ویں غیر رسمی وزارتی اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ تنظیم کے رکن ممالک کے مابین برادرانہ تعلقات سے علاقائی رابطے کے منصوبوں کو مزید تقویت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری کو باہمی رابطے کی عظیم مثال قرار دیا اور توانائی روابط کے لیے پاکستان کی ترجیح کو اجاگر کیا۔ اس ضمن میں کاسا 1000 اور تاپی منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا راہداری معاہدوں میں معاونت کے لیے پاکستان اپنے ریل اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا رہا ہے،  تہران استنبول راہداری اور پاک ایران ترکمانستان ریل رابطے کو بھی فعال بنایا جا رہا ہے۔ وزیر خارجہ نے ای سی او تجارتی معاہدے پر نظر ثانی کی بھی حمایت کی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73 ویں اجلاس کے موقع پرسائیڈ لائنز پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کویتی ہم منصب و نائب وزیراعظم شیخ صباح خالد الحمد الصباح، چینی اور جاپانی وزرائے خارجہ سے بھی ملاقاتیں کیں۔جن میں باہمی دلچسپی کے اموراورمختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جبکہ جاپانی وزیر خارجہ تاروکونو سے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور اہم امور پر گفتگو ہوئی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی 29 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔

Comments are closed.