ڈی پی او تبادلہ کیس میں احسن جمیل گجر کا بیان سپریم کورٹ میں جمع

اسلام آباد: وزیراعلیٰ پنجاب کے قریبی دوست احسن جمیل گجر نے سربراہ نیکٹا خالق داد لک کی رپورٹ پراعتراضات اٹھاتے ہوئے رپورٹ کو حقائق کے منافی قرار دے دیا کہتے ہیں وہ وزیر اعلیٰ ہاوس میں نیک نیتی کے ساتھ ڈی پی او رضوان گوندل اور مانیکا فیملی کا معاملہ حل کرانے گئے تھے۔

ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے قریبی دوست احسن جمیل گجر نے سربراہ نیکٹا خالق داد لک کی رپورٹ پر اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا، سربراہ نیکٹا کی رپورٹ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے احسن جمیل گجر نے کہا  کہ  رپورٹ غیر واضح اور حقائق کے منافی ہے۔

جواب میں احسن جمیل گجر کا کہنا ہے کہ وہ کوئی سرکاری یا عوامی عہدہ نہیں رکھتے ہیں ایک عام شہری ہیں اور قانون کی پاسداری کرتے ہیں ان کے خلاف ضابطہ کار کی خلاف وزری پر انضباطی کاروائی نہیں کی جاسکتی، مانیکا فیملی کا قریبی تعلق ہونے کی بنا پر وہ وزیر اعلی ہاوس میٹنگ میں گئے تھے اور نیک نیتی کیساتھ پولیس سے معاملہ حل کرانے کی کوشش کی جبکہ میٹنگ کے دوران ان کی طرف سے انتظامی امور میں مداخلت نہیں کی گئی

 وزیر اعلیٰ پنجاب کے قریبی دوست نے عدالت سے استدعا کی وہ اپنے اقدام پر پہلے بھی ندامت کا اظہار کر چکے ہیں اس لیے ان کی حد تک مقدمہ ختم کیا جائے گزشتہ ہفتے ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس کی سماعت کے دوران سربراہ نیکٹا خالق داد لک نے عدالت عظمیٰ میں واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی تھی جس پر عدالت عظمیٰ نے احسن جمیل گجر کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ پنجاب ، خاور مانیکا سے بھی جواب طلب کیا تھا۔

Comments are closed.