اسلام آباد۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ڈی پی او پاکپتن تبادلہ کیس کی سماعت کی، چیئرمین نیکٹا خالد داد لک نے واقعہ سے متعلق انکوائری رپورٹ پیش کی۔ جس میں بتایا گیا کہ آئی جی کلیم امام کا موقف تھا کہ شفاف انکوائری کیلئے تبادلہ کیا گیا،حیرانی کی بات کی ہے کہ تبادلے کے ساتھ ہی انکوائری کا حکم نہیں دیا گیا،، جس سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ڈی پی او کو سبق سکھانے کیلئے آئی جی پر دباؤ تھا، آئی جی کلیم امام ‘شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار’ نکلے۔ ڈی پی او نے خاور مانیکا کے بیٹے کو پیغام دیا کہ آپ کو تکلیف نہ ہو تھانے آجائیں، ڈی پی او انکوائری رپورٹ بنانا چاہتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مانیکا خاندان کے معاملات میں مداخلت روکنے کے لیئے دھمکی دی گئی، وزیراعلی کیساتھ ملاقات میں میں احسن جمیل گجر کی موجودگی خلاف ورزی ہے۔ کہا گیا کہ جو پیغام دیا گیا پورا ہوگیا، یہ بھی کہا گیا کہ سب لوگ متاثرہونگے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم سفارش کلچر ختم کرنا چاہتے ہیں،خاور مانیکا نے کہا کہ انہوں نے کوئی سفارش نہیں کی، کیا وہ اپنی سابقہ بیوی یا ان کے موجودہ شوہر عمران خان کو فون کرتے؟؟؟ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ زیادہ جذباتی نہ ہوں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیراعلی ایک اجنبی شخص کوساتھ بٹھا کر کہتے ہیں ڈی پی او سے بات کریں، تمام لوگوں پراثر پڑے گا کا کہنا تو دھمکی میں آتا ہے، آج احسن جمیل گجر جھک کر کھڑے ہیں، پہلے دن اکڑ کر کھڑے تھے، ان کا خیال تھا کہ مانیکا فیملی کے ساتھ ان کے گہرے مراسم ہیں۔ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کوہدایت کی کہ اس معاملےمیں آرٹیکل باسٹھ ون ایف کا تناظر بھی دیکھیں، آرٹیکل 62 ون ایف کو تعویزبنا کربازو سےباندھ لیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب، خاورمانیکا، احسن جمیل گجر اور آئی جی پنجاب رپورٹ پر موقف پیش کریں۔ مقدمے کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی گئی۔
Comments are closed.