پاک چین اقتصادی راہداری معاہدوں پرنظرثانی نہیں ہو رہی، ڈاکٹر محمد فیصل

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ سی پیک معاہدوں پر کوئی نظر ثانی نہیں ہو رہی اور اس حوالے سے وزیراعظم کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔

دفتر خارجہ میں ہفتہ وارمیڈیا بریفنگ کے دوران ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ سی پیک معاہدوں پر کوئی نظر ثانی نہیں ہو رہی، پاک چین اقتصادی راہداری کے معاہدوں پر نظر ثانی سے متعلق وزیراعظم کے بیان کو درست رپورٹ نہیں کیا گیا، پاکستان اور چین اسپیشل اکنامک زونز میں تیسرے شراکت دار کیلئے پر امید ہیں، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سی پیک کی شراکت داری پر بات چیت ہوئی ہے، تاہم حتمی معاملات ابھی طے پانے ہیں۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی این جی اوز کے کام کرنے پر پابندی نہیں، پاکستان نے حال ہی میں 141 بین الاقوامی این جی اوز کے معاملات دیکھے جن میں سے 74 کو کام کرنے کی اجازت دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں اسلحے کی دوڑ کے خلاف ہے، پاک بھارت تعلقات سے متعلق کوئی خفیہ پالیسی نہیں، بھارت مذاکرات سے پیچھے ہٹ گیا لیکن پاکستان کسی بات سے نہیں بھاگ رہا، پاکستانی خارجہ پالیسی میں کوئی ابہام نہیں۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد بلدیاتی انتخابات کے موقع پرحریت رہنماؤں کی نظر بندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حالات بھارتی کنٹرول سے باہر ہوگئے ہیں اور بلدیاتی انتخابات کو عوام نے مسترد کردیا، بھارت اس طرح کے ڈرامے کرکے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ امریکا کے خصوصی مشیر برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کے دورہ میں افغان مفاہمتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں ممالک نے آگے بڑھنے پر اتفاق کیا، ان کا آنا اس بات کی عکاسی ہے کہ امریکا بھی آگے بڑھنا چاہتا ہے، افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا امریکا، افغانستان اور دیگر فریقوں کی ذمہ داری ہے۔

Comments are closed.