جعلی بینک اکاؤنٹس کیس: متعلقہ ریکارڈ 4روزمیں جے آئی ٹی کوفراہمی کاحکم

اسلام آباد: جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے مزید ٹرانزیکشنز کا سراغ لگا لیا ۔ عدالت نے سندھ حکومت کو 26 اکتوبر تک مطلوبہ ریکارڈ جے آئی ٹی کو فراہم کرنے کا حکم دیدیا ۔ آئی جی سندھ کو بھی جمعہ کے روز طلب کر لیا گیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جعلی بینک اکاونٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کی، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے دوسری پیشرفت رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ جعلی اکاؤنٹس سے مزید ٹرانزیکشنز بے نقاب ، رقم 101 ارب تک جا پہنچی۔ چیف جسٹس نے سندھ حکومت کو چار روز میں مطلوبہ ریکارڈ جے آئی ٹی کو فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کے استفسار پر جے آئی ٹی سربراہ احسان صادق نے بتایا 47 ارب کی ٹرانزیکشنز جعلی اکاونٹس سےسامنے آئیں ، 36 بے نامی کمپنیوں سےمزید 54 ارب روپے منتقل کئے گئے ، رقوم منتقل کرنے کے بعد اکاؤنٹس بند کر دیئے جاتے تھے ، سندھ حکومت مطلوبہ ریکارڈ فراہم نہیں کر رہی ۔ چیف جسٹس نے کہا چوروں نے ایسےاکاونٹس میں پیسہ رکھا تو نہیں ہو گا ، وہ مر جائیں گے ایک پیسہ نہیں دیں گے ،  تمام محکموں کےسیکرٹریز بلا لیتےہیں ، دیکھتےہیں کیسے ریکارڈ نہیں دیتے ۔

گرفتار ملزم انور مجید کے وکیل نے طبی سہولتیں نہ دیئے جانے کی شکایت کی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےملزم کو اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کردیتے ہیں ، ضرورت ہوئی تو آر آئی سی یا پمز لانا آسان ہو گا ۔ وکیل نے اومنی گروپ کے منجمد اکاؤنٹس کے کیسز لا معاملہ اٹھایا تو چیف جسٹس نے کہا اومنی گروپ کے اکاونٹس کو غیرمنجمد کر دیتے ہیں کمپنیوں کی نگرانی عدالت کرے گی ، آپ91 ارب روپے کے فراڈ کی حقیقت سامنے لانے نہیں دے رہے ۔ نیشنل بینک کے وکیل نے انکشاف کیا کہ اومنی گروپ بینکوں کا 23 ارب روپے کا نادہندہ ہے ۔ کیس کی آئندہ 26 اکتوبر کو کراچی رجسٹری میں ہوگی۔

Comments are closed.