اسلام آباد: پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی کے زیراہتمام ‘ریڈیکل ریفارمز کا نیا ایجنڈا’ کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں پولیس اصلاحات کے ماہرڈاکٹرشعیب سڈل نے کہا کہ آئین میں بنیادی انسانی حقوق ملک کے عدالتی انصاف کے نظام سے منسلک ہیں۔ مؤثراور آزاد پولیس سروس کے بغیرمعاشرے میں انصاف نہیں ہوسکتا۔ بدقسمتی سے یہاں کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں ہے جو ایک آزاد پولیس سروس چاہتی ہو۔ سب سے پہلے مل کر ملک میں میرٹ کو یقینی بنانا ہوگا۔ بلاتفریق احتساب کے بغیر اصل تبدیلی ایک خواب رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سول سرونٹ میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
پاکستانی نژاد برطانوی وکیل بیرسٹرنسیم احمد باجوہ نے کہا کہ پاکستان میں خوشحالی اور ترقی کے لئے اختیارات کو نچلی سطح تک پہنچانا ناگزیر ہے۔موجودہ نظام عوام دشمن اور بوسیدہ ہے اور اب عوام کے لیے دوستانہ اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اشتراکی جمہوریت سے نظام کو تبدیل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ اپنے آئین اور ریاست سے نوآبادیاتی نظام کو نکالنے میں ناکام رہے ہیں۔ جب تک کہ ہم اپنے آئین اور ریاست میں سے نوآبادیاتی نظام کا خاتمہ نہیں کرتے، ہم اپنے مطلوبہ مقاصد کو حاصل نہیں کرسکتے۔ انہوں نے ملک میں مؤثر مقامی حکومتوں کا نظام وقت کی اہم ضرورت قراردیا۔
ڈائریکٹر پالیسی ایڈوکیسی ، ایس ڈی پی آئی، معظم شریف بھٹی نے کہا کہ بنیادی اصلاحات کی لیے شہریوں کو متحرک کرنا ہو گا، جس کے لیے سوِل سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور میڈیا کا ایک کلیدی کردار ہے۔ سینئرصحافی مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو پارٹی کے منشور کی مطابق پاکستانی عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہوگا۔
Comments are closed.