چندا ماموں۔۔۔پیارکے احساسات، گرہن اور توہمات

چاند سے تو ہر کسی کا بچپن سے ہی ایک عجیب سا خوبصورت میٹھا میٹھا سا رشتہ ہے، بچے ہوں یا بڑے پیار سے اکثر ہی چاند کو چندا ماموں پکارتے ہیں، محبت کے قصوں میں چاند کے تذکرے بھی خوب ہوتے ہیں اور شاعری میں بھی چاند اور احساس کے انمول خزانے ملتے ہیں۔بچوں کے لیے ٹی وی پر بنائے گئے اشتہار میں بھی چندا ماموں کا تذکرہ ہوتا ہے، ہنسنا، روٹھنا، منانا، الغرض مختلف اوقات میں مختلف احساسات کے تحت سب ہی چندا ماموں کو پکار کے ڈھیروں باتیں کرتے ہیں کہ جیسے ایک پیارا سا دوست سب کھٹی میٹھی باتیں سن رہا ہو۔

چاند کسے اچھا نہیں لگتا ہر عمر کا فرد آسمان کی خوبصورتی بڑھاتے چاند کا دیوانہ ہے، گزشتہ شب کی بات ہے جب میں اپنی امی، بہنوں کے ساتھ مارگلہ پہاڑیوں کے قریب اسٹریٹ لائٹس سے جگمگاتی ایک خالی سڑک ٹہل رہی تھی کہ آسمان پر نگاہ پڑی، بادلوں کی اوٹ سے جھانکتا روشن چاند اپنے حسن کے جلوے بکھیر رہا تھا۔

بہت خوبصورت منظر تھا میں نے فورا وقت ضائع کیے بغیر موبائل سے تصویر بنا لی، ایک اچھے، مہنگے پروفیشنل کیمرے اور موبائل سے بنائی گئی تصویر میں فرق ہوتا ہے لیکن بہرحال کچھ حد تک میرے موبائل کیمرے نے بھی منظر کی حقیقی خوبصورتی کو اپنی آنکھ میں قید کرنے کی کوشش کی، اس دلکش منظر کو لفظوں میں بیان کرنے کوشش کی لیکن الفاظ نہ ملے۔

آپ یہ تحریر پڑھتے پڑھتے سوچتے ہونگے کہ موضوع گرہن کا اور بات کہاں جا رہی ہے تو جناب بات سے بات نکلتی ہے خیالات کی لڑیاں آپس میں ملتی ہیں تب ہی تو خوبصورت الفاظ تحریر ہوتے ہیں۔۔ خیرکیا کہنے اس چاند کے جس نے بادلوں سے جھانکتے ماحول کو سحر انگیز بنا دیا تھا میں کیا آپ سب بھی دیکھتے تو اس دلفریب نظارے کے سحر میں کھو جاتے ۔ اور جی کرتا کہ چاند سے آج ڈھیروں ڈھیر باتیں ہوں اور رات ختم نہ ہو خاص طور پر تب جب اس حسین منظر کو ٹھنڈی ہوا تازگی بخش رہی ہو سکون دے رہی ہو۔

 ٹھنڈی ہوا میرے خیالات کو بھی تسکین بخش رہی تھی جس مقام پر میں تھی مارگلہ پہاڑیوں کے قریب وہاں تو ماحول ویسے ہی بہت پرسکون تھا چاند کو اس خالی سڑک پر کافی دیر تک تکتے تکتے خیال آیا کہ 5 اور 6 جون کی درمیانی شب چاند گرہن بھی ہونے والا ہے، ٹھنڈی ہوا کا مزہ لیتے اس سڑک پر آنے سے کچھ دیر پہلے ہی جون میں ہونے والے دو چاند گرہن اور سورج گرہن کی خبر دی تھی اس لیے فورا ہی چاند کو ٹکٹکی باندھے دیکھنے کے بعد گرہن کا خیال بھی آگیا تھا اور میں نے فورا امی بہنوں کو مخاطب کیا کہ جمعہ ہفتہ کی درمیانی شب چاند گرہن ہے۔

پانچ اور چھ جون کی درمیانی شب ہونے والے چاند گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق رات 10بج کر 46 منٹ پر ہوگا 12 بج کر 25 منٹ پر چاند گرہن کا عروج اور 2 بج کر 4 منٹ پر چاند گرہن ختم ہو جائے گا، چاند گرہن پاکستان سمیت ایشیاء کے دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ یورپ، آسٹریلیا، افریقہ، جنوبی امریکا، پیسیفیک، اٹلانٹک انڈین اوشین اور انٹارکٹیکا میں دیکھا جا سکے گا۔

لیکن آخرچاند گرہن کیوں ہوتا ہے بچے جب بڑوں سے سنتے ہیں تو پریشان ہوتے ہیں کہ چندا ماموں بیمار ہوگئے، اور کچھ بڑے تو اب بھی پاکستان میں توہمات کو پلو سے باندھے پھر رہے ہیں، چاند گرہن کیوں ہوتا ہے ؟ اس سوال کی جانب بہت کم سوچا جاتاہے یا غور کیا جاتا ہے۔

 سائنس کے مطابق زمین اپنے محور کے گرد گردش کے دوران اگر چاند اور سورج کے درمیان آجائے اور زمین کا سایہ چاند پر پڑنے لگے تو چاند کا وہ حصہ تاریک ہوجاتا ہے۔ یوں زمین پر دکھائی دینے والا چاند اندھیرے میں چلا جاتا ہے۔لیکن آج بھی کئی دیہاتوں میں یا سائنسی دنیا کو نہ ماننے والے یہ کہتے ہیں کہ انسانوں کے اعمال کی بنیاد پر چاند کو گرہن لگتا ہے اور کئی لوگ آج بھی چاند گرہن کو معیوب یا برا شگون سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سال بھاری ہوگا۔

اللہ جانے کیا حقیقیت ہے لیکن آج بھی کئی لوگ اس سے مختلف قسم کے توہمات وابستہ کر لیتے ہیں جیسا حاملہ خواتین کو خاصی احتیاط برتنے کو کہا جاتا ہے اور ڈرایا جاتا ہے کہ اگر  احتیاط نہ کی تو نہایت منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔حاملہ خواتین کو چاند گرہن کے موقع پر گھر کے اندر رہنا چاہیئے وغیرہ وغیرہ۔۔۔ چاند گرہن یا سورج گرہن اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، دعا استغفار، ذکر، اذکار کرنا اور توہمات سے بچنا چاہئیے۔

Comments are closed.