فیصل آباد: جھوٹ اور حقائق سے منافی خبروں کے شائق دہلی پولیس اور بھارتی میڈیا کا اصل چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا۔
بھارتی میڈیا نے حقائق سے منافی دعوؤں اور مضحکہ خیز رپورٹنگ کے سابقہ تمام ریکارڈ خود توڑ دیئے جو سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا میں بھی بھارت کی سبکی کا باعث بنا۔
فیصل آباد کی دینی درس گاہ جامعہ اسلامیہ امدادیہ کے دو نوجوان طالب علم رائیونڈ میں سالانہ اجتماع کے دوران پاک بھارت بارڈر پر گئے اور ایک ایسی جگہ تصاویر بنوائیں، جہاں روزانہ سینکڑوں افراد تصویریں بناتے ہیں۔
نوجوانوں نے اپنی تصاویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپ لوڈ کردی۔ داڑھی اور ٹوپی والے مدرسے کے طلبا کی بارڈر پر ایک تصویر نے سرحد پار سیکیورٹی فورسز کی دوڑیں لگوادیں۔ دہلی پولیس نے نوجوانوں کی فیس بک والی تصاویر کے پوسٹر لگا کر شہر بھر میں چسپاں کردیئے۔
رہی سہی کسر خبر اور خبریت کے بنیادی اصولوں سے عاری بھارتی میڈیا نے پوری کردی۔ میڈیا اور دہلی پولیس نے شہریوں کو ان دونوں نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے عوام کو ان سے محتاط رہنے کی تلقین کی۔ جسے بھارتی میڈیا بغیر تحقیق کیے ڈھول کی طرح پیٹتا رہا۔
دوسری جانب نوجوانوں کے مدرسے جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے منتظمین اور اساتذہ نے نوجوانوں ندیم اور طیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کر کے بھارتی میڈیا کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کردیا ہے۔
Comments are closed.