یورپی یونین کی افغان امن عمل کے لیے ضامن بننے کی پیشکش

ممتاز حسین

جنیوا: یورپی یونین کی مندوب اعلیٰ برائے خارجہ امور و سیکورٹی پالیسی فیڈریکا موگیرنی نے افغانستان کے حوالے سے جنیوا کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کانفرنس کے منتظمین، شرکاء بالخصوص افغان صدراشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

فیڈریکا موگیرینی نے افغانستان سے متعلق قومی، علاقائی اور بین الاقوامی اتفاق رائے کی تجدید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تمام تر تعاون افغان عوام کے لئے ہے۔ اجتماعی سیاسی حمایت کے ساتھ  ساتھ 2017 سے 2020 تک 13.6 ارب یوروز کی مالی امداد کی بھی یقین دہانی کراتے ہیں۔

ماضی کے وعدے پورے ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فیڈریکا موگیرینی نے کہا کہ آج جنیوا میں تجدید عہد کے ساتھ ساتھ انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ افغانستان تاریخ کے نازک لمحات سے گزر رہا ہے۔ سب کو اندازہ ہے کہ افغان عوام کی امیدیں اور توقعات دراصل حقیقی امن عمل کے ذریعے پوری ہو سکتی ہیں جو جمہوری، متحد اور مستحکم افغانستان کی طرف لے کر جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ افغانستان میں تقریباٍ کسی کو یاد نہیں ہوگا کہ وہاں پر امن کب تھا۔ لیکن کچھ نئی چیزیں افغانستان میں ہو رہی ہیں جنہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔

فیڈریکا موگیرینی نے کہا کہ صدر اشرف غنی نے طالبان کو امن کے لیے دلیرانہ پیشکش کی، یہ امن کی راہ میں حائل رکاوٹ کو دور کرنے اور ملک کو آگے لے جانے کیلئے ایک منفرد موقع ہے۔ آگے لے جانے پر اس لیے زور دیتے ہیں کیونکہ امن مذاکرات کے لیے یہ ایک غیرمشروط پیش کش ہے۔ لیکن اگر امن مذاکرات کے نتیجے میں یہ عمل شروع ہوتا ہے تو یہ غیرمشروط نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلا شبہ آج کا افغانستان پہلے کی نسبت زیادہ متحد ہے لیکن یہ کافی نہیں، تاریخ میں پہلے سے بہتر ضرور ہے۔ بالخصوص جب خواتین، لڑکیوں اور اقلیتوں کے لیے حقوق اور مواقع کی بات ہو۔ بہتری کے اس سفر کو جاری رکھنے کے لیے افغان عوام امن اورمتفقہ پیشرفت کی دعا کرتے ہیں۔ اس بار مستقل بنیادوں پر فائربندی اور افغان قیادت میں امن عمل کیلئے دعا گو ہیں۔

فیڈریکا موگیرینی نے کہا کہ یورپی یونین کابل امن مذاکرات کے لیے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتی ہے اور سمجھتی ہے کہ یہ وقت امن کے لیے بامقصد مذاکرات شروع کرنے کا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ تمام فریقین دیکھیں گے انہیں موثر اور مکمل عالمی تعاون حاصل ہوگا۔

یورپی یونین کی مندوب اعلیٰ برائے خارجہ امور و سیکورٹی پالیسی نے کہا کہ دوسال قبل جو بات برسلز میں کہی وہی بات رواں برس تاشقند میں بھی کی۔ آج یورپی یونین ایک بارپھر اپنے تمام ترذرائع، وسائل کے ساتھ افغانستان میں بامعنی امن عمل اور امن معاہدے کی ٹھوس بنیادوں پر حمایت اور تعاون پیش کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ افغان عوام کے ساتھ جاری تعاون کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کی طرف سے امن عمل کی حمایت میں پانچ اضافی چیزیں پیش کرنا چاہتی ہیں۔

پہلے نمبر پر یورپی یونین علماء، خواتین، اقلیتیوں، تارکین وطن اور سوسائٹی کے نمائندوں کی شمولیت سے امن عمل کو متفقہ بنانے کے لیے کردار ادا کر سکتی ہے۔ کیونکہ امن افغانستان کے تمام عوام سے متعلقہ ہے۔

دوسرے نمبر پر یورپی یونین امن معاہدے کے نتیجے میں اصلاحات کے لیے تعاون کرسکتی ہے مثال کے طور پر ملکی سلامتی سے متعلق اصلاحات کے شعبے میں معاونت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

فیڈریکا موگیرینی نے کہا کہ ایسے افراد جنہوں نے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہے یورپی یونین انکے اور ان کے خاندانوں کے ساتھ مل کر کام کرسکتی ہے تا کہ وہ افغان معاشرے میں اپنا نیا مقام حاصل کرسکیں، کاروبار، ملازمت کے حصول اور برادری و معاشرے کے لیے کارآمد شہری بن سکیں۔

امن عمل کے لیے یورپی یونین ضامن کے طور پر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے جیسا کہ انڈونیشیا سے کمبوڈیا تک کئی دوسرے ممالک کے لیے کیا گیا۔

یورپی یونین افغانستان کے تمام ہمسایوں کے ساتھ تجارت اور بنیادی ڈھانچے کے فروغ سے متعلق منصوبوں کے فروغ کے لیے تیار ہے۔ اس سے افغانستان کے ہر کونے پر نئے اقتصادی مواقع پیدا ہوں گے جس سے افغانستان کے تمام ہمسائے اور خطے کوفائدہ ہوگا۔

فیڈریکا موگیرینی نے کہا کہ امن عمل شروع ہوتے ہی یورپی یونین یہ  تمام اقدامات اٹھانے کے لیے تیار ملے گی۔ یورپی یونین ایک غیرجانبدار کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ جس کا افغان عوام کی جانب سے اپنے ملک کے لیے کیے جانے والے فیصلے کے علاوہ کوئی اور ایجنڈے نہیں ہوگا۔ اب یہ افغان عوام پر منحصر ہے کہ وہ فیصلہ کریں تا کہ دہائیوں سے جاری جنگ ختم ہوسکے اور افغانستان کا مستقبل بدلے۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین یقین رکھتی ہے کہ امن کے لیے سنجیدہ بات چیت شروع کرنے کا یہی وقت ہے، اس کے لیے ہم سب کو حصہ ڈالنا ہوگا۔ یورپی یونین ایک سہولت کار، قابل بھروسہ محرک، خطے کے تمام ممالک کے شراکت دار، امن و تعاون کے لیے طاقت اور سب سے اہم افغان عوام کے دوست کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

Comments are closed.