دی ہیگ:مختلف ممالک کی طرح یورپی ملک نیدرلینڈز میں بسنے والے کشمیریوں نےبھی بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منایا، بھارتی سفارت خانے کے باہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کامران فاؤنڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر محمد کامران نے کہا کہ مغربی طاقتیں بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کی بجائے انسانی حقوق کو اہمیت دیں۔
بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں بھارتی سفارت خانے کے سامنے کشمیر پیس کونسل نیدرلینڈز اور کامران فاؤنڈیشن کے اشتراک سے ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا جس میں خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں پاکستانی اور کشمیری افراد نے شرکت کی۔
۔دی ہیگ میں کشمیر پیس کونسل اور کامران فاؤنڈیشن نے بھی ایک مظاہرے کا اہتمام کیا ۔ مظاہرین نے بھارتی سفارت خانے کے باہر شدید نعرے بازی کی۔ شرکاءنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیریوں کے حق اور بھارتی مظالم کے خلاف نعرے درج تھے۔
مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر پیس کونسل کے صدر راجہ زیب خان نے بھارتی حکومت اور فوج کی طرف سے کیے جانے والے مظالم کی مذمت کی اور عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں پر ہونے والی زیادتیوں کو رکوانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
کامران فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر محمد کامران کے اپنے خطاب میں مغربی ممالک کو کشمیر کے مسئلے پر کوئی عملی قدم نا اٹھانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کوئی زمین کا تنازہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا مسلہ ہے اس لئے مغربی ممالک کو تجارتی مفاد کے بجایے انسانی حقوق کو فوقیت دینی چاہیے۔
دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ مغربی دنیا کشمیر پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہویے ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔مظاہرین نے اس عظم کا اظہار کیا کہ وہ کشمیریوں کو ان کا جائز حق ملنے تک ان کی حمایت جاری رکھیں گے۔
Comments are closed.