فرانس نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے بعد پاکستان اور ترکی کے ردعمل پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
فرانسیسی وزیر داخلہ جیرالڈ درمانین نے کہا ہے کہ ترکی کو فرانس کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے منگل کو یہ بیان ترک صدر کے اس بیان کے بعد دیا ہے جس میں رجب طیب اردوغان کہا تھا کہ فرانسیسی صدر کے ’اسلام مخالف‘ ایجنڈے کی وجہ سے فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔
فرانسیسی وزیرِ داخلہ جیرالڈ درمانین نے سرکاری ریڈیو کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان اور ترکی کے ردِعمل کو خصوصی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان دونوں ممالک کے پارلیمان میں فرانس کے خلاف قراردادوں کی منظوری ’’فرانس کے اندرونی معاملات میں مداخلت‘‘ کے برابر ہے۔
واضح رہے کہ فرانسیسی صدر میخواں کے “آزادی اظہار” کے نام پر پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بیانات اور اقدامات سے دنیا بھر کے اسلامی ملکوں میں عوام نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
Comments are closed.