برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان بریگزٹ ڈیل طے پا گئی

لندن۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ٹوئٹ کی کہ ڈیل ہوگئی ہے، برطانیہ یورپی یونین کا اتحادی اور اہم ترین مارکیٹ برقرار رہے گا۔برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ کرنسی، بارڈر کنٹرول، قانون، تجارت اور ماہی گیری پر برطانوی کنٹرول واپس لے لیا گیا ہے۔

برطانوی حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صفر ٹیرف اور صفر کوٹے پر یورپی یونین سے پہلا آزادانہ معاہدہ کیا گیا جو کہ پورے ملک کے بزنسز اور خاندانوں کیلئے زبردست خبر ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ 668 ارب یورو سالانہ کے معاہدے سے ملک بھر میں روزگار کو تحفظ ملے گا اور برطانوی مصنوعات بغیر ٹیرف اور یورپی مارکیٹ میں بغیر کوٹا کے فروخت ہوں گی۔

برطانیہ کےساتھ بریگزٹ ٹریڈ ڈیل طے ہونے پر صدر یورپی کمیشن ارسلا وین ڈرلین نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایک لمبے اور پر پیچ راستے کا اختتام ایک اچھے معاہدے پر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک متوازن اور مساوی ڈیل ہے، اور تجارتی معاملات طے کرنا ایک ذمہ دارانہ اور درست عمل ہے۔

برطانیہ نے 2016 میں ریفرنڈم کرایا تھا جس میں عوام کی اکثریت نے یورپی یونین سے انخلاء کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ 31 دسمبر 2020 کو رات 12 بجے برطانیہ باضابطہ طور پر یورپی یونین سے الگ ہوجائے گا۔یورپی یونین سے طے پانے والے معاہدے کی توثیق برطانوی پارلیمنٹ سے ضروری ہے جس کے لیے دونوں ایوانوں کا اجلاس 30 دسمبر کو طلب کرلیا گیا ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے بھی 2 ہزار صفحات پر مشتمل معاہدے کی کاپی 27 یورپی یونین کے رکن ممالک کو بھیجی جائے گی جو دو سے تین دن میں اس کی توثیق کریں گے۔تمام رکن ممالک کی توثیق کے بعد معاہدہ یورپی یونین کے سرکاری جرنل میں شائع ہوگا اور یکم جنوری 2021 سے نافذ العمل ہوجائے گا۔

واضع رہے کہ برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔

Comments are closed.