اسلام آباد: جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار اور بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض کے درمیان مکالمہ ہوا۔ ملک ریاض نے چیف جسٹس کے سوالات کے ترکی بہ ترکی جوابات دیئے۔
سپریم کورٹ میں پیشی کے موقع پر عدالت نے ملک ریاض کو روسٹرم پر بلا لیا۔ چیف جسٹس نے ملک ریاض کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک صاحب کیا وجہ ہے آپ کا نام ہر جگہ آتا ہے؟ ہنڈی، حوالہ، زمینوں پر قبضے، جہاں ہاتھ ڈالتے ہیں ملک ریاض کا نام آتا ہے، آپ نے اربوں کھربوں روپے کی جائیدایں بنائی ہیں، حکومتیں بناتے اور گراتے رہے ہیں۔ اس ملک سے جو لیا ہے واپس کر دیں۔
جس پر چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض نے چیف جسٹس سے مکالمے کے دوران کہا کہ جوجائیداد چاہیے لے لیں، علی ریاض والا گھر بھی رکھ لیں۔ ملک ریاض بولے کہ انہوں نے کوئی حکومت بنائی ہے ناں ہی گرائی ہے۔
چیئرمین بحریہ ٹاؤن نے کہا کہ وہ کام کرتے ہیں اس لئے نام ہرجگہ آتا ہے۔ انہوں نے مسٹر ڈنشا سے پلاٹ لیا، سب کچھ کلئیر کرنا چاہتا ہوں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے ملک ریاض سے کہا کہ 1 ہزار ارب کی جگہ 5 ہزار دے دیں، کلیئر کر دیتے ہیں۔
ملک ریاض نے کہا کہ شکر کریں پاکستان میں 60 سے 70 منزلہ عمارت بنی ہے، جس پر چیف جسٹس بولے کہ شکر تب کرتے جب یہ عمارت ایمانداری سے بنائی گئی ہوتی۔ ملک ریاض نے عدالت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی ہے، پاکستان کا پیسہ واپس کریں۔ بحریہ ٹاون آئیکون ٹاور کراچی کی لائٹ آف کر دیں۔
Comments are closed.