جرمنی کی چانسلر اینجیلا مرکل نے اپنی پارٹی کے رہنماؤں کو بتایا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ ملک میں کورونا کے روک تھام کے لیے لاک ڈاؤن اپریل کے آغاز تک وسیع ہوسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے برطانیہ سے آنے والے وائرس کا انتظام نہ کیا تو پھر ایسٹر تک ہمارے ہاں کیسز کی تعداد 10 گنا زیادہ ہوگی انہوں نے کہا کہ ہمیں مزید 10 ہفتوں تک مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب جرمنی کے وزیرخزانہ اولاف اسکولز نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث ہونے والے حالیہ لاک ڈاؤن سے ہماری معیشت کو بہت زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ برلن اپنی مالی طاقت کا استعمال کرے گا جو حسب ضرورت مدد فراہم کرنے کے لیے کافی ہے۔
برلن میں معاشی شرح نمو کا رواں مالی سال کے لیے تخمینہ 4.4 کے قریب ہے جبکہ گزشتہ 5.5 فیصد حاصل نہ ہوسکا تھا جبکہ ماہرین اس ہدف سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ ملک میں ایک مرتبہ پھر لاک ڈاؤن ہے۔
جرمن وزارت صحت نے سفری پابندیوں کو مزید سخت کرنے کا اعلان کیاہے۔کورونا کیسز میں اضافے کے باعث جرمنی میں لاک ڈاون مزید سخت کردیاگیاہے۔جن علاقوں میں وائرس کے پھیلاوکی شرح زیادہ ہے وہاں 15 کلومیٹر کے حدود سے باہر جانے پر پابندی عائد کردی گئی یے۔پیر کے روز 12 ہزار 479 نئے کیسز سامنے آئے جس کے بعد کیسز کی تعداد 19 لاکھ سے زائد جبکہ اموات 40 ہزار سے بڑھ گئی ہیں۔جرمنی میں 6 لاکھ 13 ہزار سے زائد افرادکو ویکسین لگائی جاچکی ہے۔
Comments are closed.