قبضہ مافیا کیخلاف گرینڈ آپریشن،80 کنال اراضی واگزار

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں قائد اعظم یونیورسٹی کی اراضی اور سرکاری زمینوں پر قبضوں، تجاوزات  کے خلاف گرینڈ آپریشن اسسٹنٹ کمشنر سعد بن اسد کی نگرانی میں کیا گیا، جس میں ضلعی انتظامیہ، سی ڈی اے انفورسمنٹ اور پولیس اہلکاروں نے شرکت کی۔

ضلعی انتظامیہ نے قابضین سے 80 کنال اراضی واگزار کرا لی،، آپریشن کے دوران 9 مکانات، زیرتعمیر15 گھر، مویشیوں کے باڑے مسمار کر دیئے گئے، سابق چیئرمین سینیٹ نیئربخاری نے 25 کنال اراضی پر قبضہ کیاہوا تھا، قائداعظم یونیورسٹی کی 100 کنال اراضی جامعہ انتظامیہ کےحوالےکردی۔اسسٹنٹ کمشنراسلام آباد سعد بن اسد نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن 9 جنوری تک جاری رہےگا۔

سابق چیئرمین سینیٹ نیئرحسین بخاری کے ملازمین رکاوٹ بنے۔ لیکن انتظامیہ پیچھے نہیں ہٹی۔ پاکستان پیپلز پارٹی قیادت نے نیئرحسین بخاری کے گھر پر آپریشن کو سیاسی ہتھکنڈا قرار دیا۔

سی ڈی اے ضلعی انتظامیہ کے ہمراہ 200 پولیس اہلکارقائداعظم یونیورسٹی کی اراضی واگزار کرانے پہنچے۔۔۔اسی اراضی پرسابق چیئرمین سینٹ نیئر حسین بخاری کا گھر بھی ہے۔ سرکاری اراضی خالی کرانے کےلیے انتظامیہ نے پہلے اشتہار بھی دیا۔۔۔نفری موقع پر پہنچی۔ مشینری چلی۔۔ایک شیڈ گرا تو نیئر حسین بخاری کے ملازمین سی ڈی اے اورانتظامیہ کے اہلکاروں سے الجھ پڑے۔ صورتحال بگڑتی دیکھ کرسی ڈی اے کو کچھ دیر کےلیے آپریشن روکنا پڑا۔اسی دوران مقامی لوگ بھی مزاحمت پر اتر آئے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے قائدین بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری نے  نیئر حسین بخاری کے گھر پر آپریشن کو سیاسی دباؤ کا ہتھکنڈا قرار دیا ہے، بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر تجاوزات کے خلاف آپریشن کرنا ہے تو بنی گالا میں کیا جائے، کیونکہ عمران خان کے گھر کی تعمیرات غیر قانونی ہے، بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایک نہیں دو پاکستان بنائے جا رہے ہیں، نیئربخاری کے گھر پر آپریشن سیاسی آواز دبانے کے لیے ہے۔

Comments are closed.