ملک ریاض کیخلاف اتنا مواد آیا گرفتار کیوں نہیں کیاگیا؟چیف جسٹس

اسلام آباد: جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق کیس میں فریق بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ان کے موکل کا اس معاملے سے تعلق نہیں بنتا،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ سارے وکیلوں کا ایک ہی مدعا ہے کہ کسی طرح ملک ریاض کو بچانا ہے، مجبور نہ کریں کہ آج ہی عملدرآمد بینچ بنا کر ملک ریاض کی گرفتاری کا حکم دے دوں۔

چیئرمین بحریہ ٹاؤن کے خلاف اتنا مواد آ چکا ہے اسے کیوں گرفتار نہیں کیا گیا؟ بڑے آدمی کیلئے بڑے وکلاء آجاتے ہیں کہ اس جیسا معصوم تو ہے ہی نہیں، اس مرحلے پر آپ ملک ریاض کو کیسے معصوم ثابت کر سکتے ہیں؟

سب سے جواب اسی لیے مانگا ہے کہ ہر آدمی اپنی پوزیشن واضح کرے، وکیلوں کا صرف یہ کام ہے کہ اصل کیس سے توجہ ہٹی رہے،، بتائیں کہ اتنا مواد آنے کے بعد اومنی گروپ کیخلاف کہاں پر کیس چلایا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ٹرائل کورٹ نہیں، اس مقدمے کا مرکز جعلی اکاؤنٹس ہیں، جعلی اکاؤنٹس کا تعلق اومنی، سیاستدانوں اور بحریہ ٹاؤن سے ہے، جن لوگوں نے 50ہزار کبھی نہیں دیکھا انکےاکاؤنٹس میں 8٫8کروڑفرشتے ڈال گئے، اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، نامزد ملزمان اس بات کوکیوں نہیں سمجھتے کہ انکےپاس کلیئرہونے کاموقع ہے، تفتیش کاروں کے سامنے پیش ہو کراپنے آپ کوبے گناہ ثابت کردیں۔

Comments are closed.