کینبرا: دنیا بھر میں بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیموں راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) پر پابندی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ آسٹریلوی سینیٹر ڈیوڈ شو بریج کا کہنا ہے کہ کیا مودی سرکار نئے نازی گروپوں کی نگرانی کر رہی ہے؟
آسٹریلیا کی ریاست نیو ساوتھ ویلز کے سینیٹرڈیوڈ شو برج نے بھارت کی انتہاء پسند تنظیموں راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کا معاملہ اب نیو ساوتھ ویلزکی اسٹیٹ اسمبلی میں اٹھایا۔ انہوں نے آسٹریلیا میں ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے سکھ کمیونٹی کے4 ارکان پر ایک حالیہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ وشواہندو پریشد جودائیں بازو کی ہندو انتہا پسندتنظیم ہے اورجس سے سی آئی اے انتہا پسند مذہبی عسکری تنظیم سمجھتی ہے، نیوساؤتھ ویلز میں کیسے سرگرم ہیں؟
سینیٹرڈیوڈ شو برج نے 5 مارچ کو سینیٹر جیوف لی کے ساتھ جوکھیل اور ثقافت کے وزیر ہیں، ملاقات میں سوال اٹھایا کہ کیا یہ نئے نازی گروپ حکومت کی نظر میں ہیں اور اگر ایسا ہے تو اس کے بارے میں کیا کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ تازہ ترین واقعہ جس کے بارے میں میں نے سنا ہے، اتوار کو ہیرس پارک میں پیش آیا جہاں سکھ کمیونٹی کے چار نوجوان نئی گاڑی خریدنے کا جشن منا رہے تھے اور ان کی گاڑی کو تباہ کیاگیا۔انہیں سڑک پر روک کرتشدد کا نشانہ بنایاگیا اور پھر گاڑی کو تباہ کر دیا گیا۔
آسٹریلوی سینیٹر نے کہاکہ حملہ آوروں نے نوجوانوں پر حملہ اس لئے کیا کیونکہ وہ سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے اور حملہ آور دائیں بازو کی ہندو انتہا پسند تنظیم کے کارکن تھے۔ پہلے بھی سڈنی کے جنوبی علاقے میں سکھ کمیونٹی کے افراد پرہندو انتہا پسندوں نے حملے کئے ہیں۔ ہم آج یہاں نہ صرف بھارت میں ان کسانوں اور دیگرکمیونٹیز کے ساتھ اظہاریکجہتی کے لئے کھڑے ہیں جو دائیں بازو کی ناقابل برداشت مودی حکومت کے خلاف کھڑے ہیں بلکہ ہم سڈنی میں مقیم تارکین وطن کے ساتھ بھی اظہاریکجہتی کرتے ہیں۔
سینیٹر ڈیوڈ نے کہاکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے سکھوں کے گرجاگھروں پرحملے کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آسٹریلیا جیسے کامیاب اور متحرک کثیرالثقافتی معاشرے میں اس کےلئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بھارت کی پی ایچ ڈی سکالر ڈاکٹر نمرتہ دتہ نے ایک ٹویٹ میں اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا ویشوا ہندو پریشد اور آر ایس ایس پر پابندی لگا رہا ہے جن کے کارکنوں نے نئی گاڑی خریدنے کا جشن منانے والے 4 سکھ نوجوانوں پر حملہ کیا تھا۔انہوںنے کہاکہ آر ایس ایس اور وی ایچ پی کو نئے نازی گروپ قرار دیا گیا ہے اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق قابل سزا جرم ہوگا۔
Comments are closed.