دنیا بھر میں جڑواں بچوں کی پیدائش کی شرح میں اضافہ،ہر سال 16 لاکھ جڑواں بچوں کی پیدائش

اے ایف پی کے مطابق جمعے کو شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 16 لاکھ جڑواں بچے ہر سال پیدا ہو رہے ہیں۔ہر 40 بچوں میں سے ایک پیدائش جڑواں بچوں کی ہےسائنسی جرنل ہیومن ریپروڈکشن میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق جڑواں بچوں کی پیدائش میں اضافے کی ایک وجہ ترقی یافتہ ممالک میں تولیدی عمل کے دوران ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔

خواتین کے بڑی عمر میں حاملہ ہونے سے بھی جڑواں بچوں کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑی عمر کی خواتین میں جڑواں بچوں کی پیدائش کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر کرسچین مونڈین کا کہنا ہے کہ بیسویں صدی کے وسط سے اب تک دنیا بھر میں جڑواں بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

اس تحقیق کے نتائج 135 ممالک سے حاصل کیے جانے والے ڈیٹا پر مبنی ہیں جو 2010 سے 2015 کے درمیان حاصل کیا گیا تھا۔تحقیق کے مطابق جڑواں بچوں کی پیدائش کی تعداد افریقہ میں سب سے زیادہ ہے۔غريب ممالک میں جڑواں بچوں کی پیدائش میں اضافہ محققین کے لیے باعث تشویش ہے۔ ان کے خیال میں کم آمدنی والے ممالک میں پیدا ہونے والے جڑواں بچوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

Comments are closed.