گرینڈ حیات ہوٹل لیزبحال، کنسورشیم کو 17.5 ارب روپے ادائیگی کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے گرینڈ حیات ہوٹل تعمیر کرنے والے ، کنسورشیم بی این پی کی لیز بحال کر دی۔ بی این پی کو لیز کے ساڑھے 17 ارب روپے ادا کرنے کیلئے آٹھ سال کا وقت دیدیا ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے سی ڈی اے نے آدھا اسلام آباد ہی غلط بنایا ہوا ہے، غلطیاں کرتے ہیں پھر کہتے ہیں عمارتیں گرا دیں۔

عدالت عظمیٰ نے ہوٹل گرینڈ حیات کیس میں تعمیراتی کنسورشیم بی این پی کی اپیل منظور کرتے ہوئے لیز منسوخی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

سماعت کےآغاز پر چیئرمین سی ڈی اے نےمؤقف اختیار کیا کہ گرینڈ حیات کا ٹھیکہ کسی اور تعمیراتی کمپنی کو دینا چاہتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا آپ چاہتے ہیں نئی کمپنی آئے اور مال لوٹے؟ 13 سال تک سی ڈی اے سوتا رہا ، پھر کسی وزیر کےکہنے پر لیز منسوخ کر دی ، سی ڈی اے نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ۔

وکیل سی ڈی اے نے دلیل دی کہ گرینڈ حیات ٹاور نیشنل پارک میں آتا ہے ۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا نیشنل پارک میں تو سپریم کورٹ بلڈنگ اور سیکرٹریٹ بھی آتا ہے ان کو بھی گرا دیں ؟ عدالت نے حکم جاری کیا کہ بی این پی کی لیز منسوخی کے خلاف اپیل منظور کی جاتی ہے ، کنسورشیم 17.5 ارب روپے بطور لیز آٹھ سال کے اندر ادا کرے۔

Comments are closed.