اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ریلوے خسارہ کیس میں سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کو عدالت لانے پر حیرانی کا اظہار کردیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت تو خواجہ صاحب کو بلاتی نہیں ہے تو کیوں آتے ہیں؟
چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریلوے خسارہ کیس کی سماعت شروع کی تو سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق عدالت میں پیش ہوئے۔ خواجہ سعد رفیق کو نیب حکام راہداری ریمانڈ پر لاہور سے اس پیشی کے لیے اسلام آباد لائے تھے۔
خواجہ سعد رفیق کو دیکھ کر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خواجہ صاحب کو ہم تو نہیں بلاتے تو یہ کیوں آتے ہیں؟ عدالت نے تو صرف آڈیٹر جنرل سے جواب مانگا تھا۔ سعد رفیق کے وکیل کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ آڈیٹر جنرل نے عدالت کے حکم پر اپنا جواب لاہور رجسٹری میں جمع کرادیا ہے۔ اس پرچیف جسٹس نے کہا کہ اگلے ہفتے جواب آجائے گا تو پھر کیس سنیں گے اور سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی۔
کمرہ عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حکومت ملک چلانے کے بجائے اپوزیشن کو بھگانے کے چکر میں ہے۔ سیاستدانوں کو ایک دوسرے کو چور چور کہنے کے بجائے اصل ایشوز پر بات کرنا ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں پکڑ پہلے لیا گیا اور ثبوت بعد میں ڈھونڈے جا رہے ہیں بلکہ ڈھونڈے نہیں بلکہ ثبوت گھڑے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں روایت ہے کہ ملک بنانے والوں کی اولاد کو ہمیشہ جیل جانا پڑا۔ اگر آپ پاکستان سے پیار یا جمہوریت کی بات کریں گے تو آپ کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوگا۔
Comments are closed.