عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کے مقابلے میں حلیف ممالک چین اور ایران کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پایا ہے۔ معاہدے کی تفصیلات باضابطہ طور پر شائع نہیں گئیں۔توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ ایک “اسٹریٹجک معاہدہ” ثابت ہوگا جس میں فوجی تعاون کے علاوہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے جیسے ایران کے اہم شعبوں میں چینی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں معاہدے پر دستخط ہوئے اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اب اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح پرپہنچ گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چین چاہتا ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات مؤثر انداز میں بہتر ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات پر موجودہ حالات اثر انداز نہیں ہوں گے بلکہ یہ تعلقات مستقل اور اسٹریٹجک ہوں گے۔چینی وزیرخارجہ نے کہا کہ ‘ایران دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے آزادانہ طور پر فیصلے کرتا ہے اور چند ان ممالک کی طرح نہیں ہے جو ایک فون کال پر اپنی پوزیشن تبدیل کردیتے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان معاہدے سے ایران کھربوں ڈالر انفراسٹرکچر کے منصوبے بیلٹ اینڈ روڑ میں شامل ہوگیا ہے جس کو مشرقی ایشیا سے یورپ تک پھیلانے کے عزائم ہیں۔
Comments are closed.