سرکاری خبرایجنسی ‘اے پی پی’ کی رپورٹ کے مطابق 21 سالہ میڈیکل کی طالبہ نافیہ اکرام پر نیویارک میں ان کے گھر کے سامنے اس وقت تیزاب سے حملہ کیا گیا جب وہ اپنی والدہ کے ساتھ گاڑی سے اتر رہی تھیں۔انسانی حقوق کے رہنماؤں کی جانب سے اس واقعےکی تحقیقات مسلم مخالف جرائم کے ذمرے میں کی جائیں۔
رپورٹ کے مطابق نافیہ اکرام اور ان کی والدہ17 مارچ کو اپنے گھر کے سامنے گاڑی سے اتری ہی تھیں کہ ایک نامعلوم شخص ان کی طرف آیا اوران کے چہرے پر تیزاب پھینک کر فرار ہوگیا جبکہ انہیں شدید زخم آئے اور بینائی سے تقریبا محروم ہوگئیں۔نافیہ اکرام مقامی یونیورسٹی ہوفسٹرا میں میڈیکل کی طالبہ ہیں اور مستقبل میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں اور انہیں حملے کے بعد ان کی والدہ نے ہسپتال پہنچایا جہاں ان کی والدہ بھی کام کرتی ہیں۔
طالبہ کے والد 50 سالہ شیخ اکرام کا کہنا تھا کہ نافیہ کو دفتر سے گھر واپسی کے دوران نشانہ بنایا گیا۔
نیویارک پوسٹ نے ان کے حوالے سے رپورٹ میں کہا کہ ‘یہ اتفاقیہ حملہ نہیں تھا بلکہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیاہےدوسری جانب پولیس کمشنر پیٹرک رائیڈر نے ملزم کی گرفتاری کے لیے نشان دہی کرنے پر 10 ہزار ڈالر نقد انعام کا بھی اعلان کیا۔ان کا کہنا تھا کہ حملہ ایک انسانیت سوز جرم ہے اور میں ذاتی طور پر ہر کسی سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر کوئی معلومات ہیں تو سامنے آئیں۔
Comments are closed.