اسلام آباد: امریکی سینیٹر لنذے گراہم نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل قابل ستائش ہے، کہتے کہ پاک فوج نے 18 ماہ میں وہ کام کردیا جو امریکا کی 18 سال سے خواہش تھی۔
پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکا کے سینیٹر لنذے گراہم نے وزیراعظم عمران خان کیساتھ اسلام آباد میں ملاقات کی جس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کیساتھ مشترکہ فوجی آپریشن گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے، طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے پاکستان موثر کردار ادا کر سکتا ہے، پاکستانی وزیراعظم، افغان صدر اور امریکی صدر کو ملنے کی ضرورت ہے۔
امریکی سینیٹر نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مفاہمت کے بعد بھی امریکا کا پاکستان کے ساتھ تعلق رہے گا، طالبان کا طاقت کے ذریعے افغانستان کا کنٹرول حاصل کرنا کسی کے مفاد میں نہیں، ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو نہیں کھو سکتے، اور یہ نہیں چاہتے کہ افغانستان دوبارہ شدت پسندوں کے ہاتھوں میں چلا جائے، افغانستان سے دور نہیں جا سکتے یہاں بہت کچھ کرنا ہے۔
لنذے گراہم کا کہنا تھا کہ پاکستانی سرحد کے اطراف باڑ لگانا ایک اچھا اقدام ہے، قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی خدمات قابل ستائش ہیں، پاک فوج نے 18 ماہ میں وہ کام کردیا جو امریکا کی 18 سال سے خواہش تھی، پاکستان کے پاس سرحد محفوظ کرنے کی حکمت عملی ہے کاش ایسا افغانستان میں بھی ہوتا، جنوبی اور شمالی وزیرستان میں بہتری آئی ہے۔
امریکی سینیٹر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کے اصول کے تحت تعلقات غلط ہیں، ہم برطانیہ کو یہ نہیں کہتے ہم آپ کی مدد کریں گے لیکن جوابی طور پر آپ ہمیں کچھ دیں، یہی پارٹنر شپ ہم پاکستان کیساتھ رکھنا چاہتے ہیں جس میں لین دین نہ ہو،امریکا کی یہ غلطی ہے کہ پاکستان کے لیے پالیسی بار بار تبدیل کرتے رہے۔
لنذے گراہم نے پاک فوج کو دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حالات مستحکم پاکستان ہماری بھی مفاد میں ہے، جنرل باجوہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں سنجیدہ ہیں، وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں امریکا کو پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے کا اچھا موقع ہے، عبوری سے اسٹریٹجک تعلقات کی طرف جانا ہوگا، آئی ایم ایف کے قرض سے پاکستانی معیشت بہتر ہوگی۔
Comments are closed.