بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اٹلی، سان مرینومیں ہزاروں افراد جنھوں نے روسی کورونا ویکسین سپوتنک لگوائی ہے ان کو یورپی یونین کا ڈیجیٹل ویکسینیشن پاسپورٹ حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ لوکل میڈیا کے مطابق سان مرینومیں 90 فیصد آبادی نے سپوتنک ویکسین کی خوراکیں حاصل کیں ہیں۔ 15 ہزار اٹالین شہری جو سان مرینو سیاحت اور کام کی غرض سے جاتے ہیں وہ بھی اسی مشکل سے دوچارہیں۔
اطالوی حکام کا موقف ہے کہ یورپی میڈیسن ایجنسی نے ابھی تک روسی ویکسین کی منظوری نہیں دی۔باخبر ذرائع کے مطابق آئندہ چند مہینوں میں ویکسین منظور کر لی جائے گی۔ تاہم جب تک منظوری نہیں ہوتی تب تک لوگوں کو کوویڈ ڈیجیٹل پاسپورٹ حاصل ہونا ممکن نہیں۔مئی کے مہینے میں سان مارینو کی حکومت نے سیاحوں اور شہریوں کو ویکسین لگانے کے عمل کا آغاز کیا تھا۔
یورپی میڈیسن ایجنسی نے بائیوٹیک ایپی فائزر، موڈرنا، آسٹرازینکا، جانسن اینڈ جانسن کے استعمال کی منظوری دی تھی۔ ایسے فراد جنھوں نے یہ ویکسین لگوائیں ہیں ان کو کوویڈ ڈیجیٹل پاسپورٹ حاصل کرنے میں کسی بھی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں ہے۔ سان مرینا اور اٹلی کے شہریوں کی مشکل کے پیش نظر یورپی کمیشن کے سان مرینا کے سرٹیفیکیٹ کو ای یو ڈیجیٹل سرٹیفیکیٹ کے برابر درجہ دے دیاگیاہے۔
Comments are closed.