امریکی صدر ٹرمپ نے 35 روز بعد شٹ ڈاؤن ختم کردیا

واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں بڑھتے ہوئے بحران اور ڈیموکریٹس کے سخت دباؤ کی وجہ سے امریکی تاریخ کا طویل ترین ‘شٹ ڈاؤن’ ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

ایک ماہ اور پانچ دن تک جاری رہنے والے شٹ ڈاؤن کے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ تین ہفتے تک کے لیے سرکاری محکموں اوراداروں کی فنڈنگ کا سلسلہ دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس اعلان پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔انہوں نے سرکاری ملازمین کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ سرکاری ملازمین ‘زبردست محب وطن’  ہیں انہیں تنخواہ پوری ملے گی۔

صدر ٹرمپ نے اپنے میں یہ بھی کہا کہ وہ فی الحال ‘بہت طاقتور راستہ’ اختیار نہیں کر رہے۔ جس کے تحت وہ اپنا صوابدیدی اختیار استعمال کرتے ہوئے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس دیوار تعمیر کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اگر دیوار بنانے کے لیے کانگریس سے مطلوبہ مدد نہ مل سکی تو اس صورت میں دوبارہ شٹ ڈاؤن ہو جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے آئین اور قانون میں دیا گیا راستہ اختیار کریں گے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اسی صورت میں بجٹ کی منظوری دیں گے جب بجٹ میں دیوار تعمیر کے لیے 5.7 ارب ڈالر مختص کیے جائیں گے۔ حریف جماعت ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ کے مطالبے پر سخت موقف اپناتے ہوئے سرحد پر دیوار تعمیر کیلئے رقم مختص کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکی ایوان کے دونوں حصوں میں بل منظور کرلیا گیا جس کی مدد سے شٹ ڈاؤن کم از کم 15 فروری تک کے لیے ختم ہو گیا ہے۔

امریکیوں کی بڑی تعداد صدر ٹرمپ کو ہی شٹ ڈاؤن کے بعد کی صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا اور 35 دنوں کے بعد صدر نے وہی راستہ اپنایا جو ہاؤس کی سپیکر اور ڈیموکریٹ پارٹی کی سینئیر رہنما نینسی پیلوسی نے تجویز کیا تھا۔ اور شٹ ڈاؤن کے خاتمے کو سپیکر کی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنماؤں نے ان کی کھل کے تعریف کی جس کی تائید چند ریپبلیکن پارٹی کے نمائندوں نے بھی کی۔

پانچ ہفتے تک جاری رہنے والے شٹ ڈاؤن سے امریکہ میں آٹھ لاکھ سرکاری ملازمین متاثر تھے اور انہیں نہ کام کرنے کے لیے رقم مل رہی تھی اور نہ ہی تنخواہیں۔

Comments are closed.