لاہور: ساہیوال واقعہ کے بعد پہلے سی ٹی ڈی، صوبائی محکمہ داخلہ، پھر وزراء اور اب سینٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کی غلط بیانی سامنے آگئی، قائمہ کمیٹی نے متاثرہ خاندان کو پیش کرنے کا خط لکھا۔ پولیس فیملی کو اسلام آباد کی سڑکوں پر گھما پھرا کر واپس لے آئی۔ صدرمملکت نے متاثرہ خاندانوں کوملاقات کیلئے بلانے سے متعلق بے بنیاد خبروں کانوٹس لے لیا اور پنجاب حکومت کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
ڈی جی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ تنویر احمد کی جانب سے آئی جی پنجاب کو ایک خط لکھا گیا۔جس میں مقتول خلیل اور ذیشان کی فیملی کو کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ خط چیئرمین کمیٹی برائے داخلہ کی اجازت کے بعد لکھا گیا۔
خلیل اور ذیشان کی فیملی کو گزشتہ روز اسلام آباد لے جایا گیاتھا۔ ورثا کا کہنا ہے کہ انہیں اسلام آباد کی سڑکوں پر گھما پھرا کربغیر کسی ملاقات کے واپس لے آئے، ایس ایچ اور اور ڈی ایس پی آفس نے اسلام آباد جانے بارے آگاہ کیا تھا۔
دوسری جانب پولیس افسران کا موقف ہے کہ انہیں متاثرہ فیملیز کو اسلام آباد لے جانے کا حکم ملا تھا جس کی تعمیل کی گئی لیکن اسلام آباد میں کسی سے ملاقات نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے متاثرہ خاندانوں کوملاقات کے لیے بلانے سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔ ایوان صدر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صدرمملکت نے نہ ہی متاثرہ خاندانوں کو ملاقات کے لیے بلایا اور نہ ہی ان فیملیز کی جانب سے ملاقات کا کوئی پیغام بھجوایا گیا۔ صدر مملکت نے جعلی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے۔
Comments are closed.