پیرس :فرانس کے سابق وزیر ماحولیات برائس لے لوند نے اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی فریم ورک کنونشن کے فریقوں کی چھبیسویں کانفرنس کو اہم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مختلف ممالک ” پیرس معاہدے ” کے فعال نفاز سے کاربن اخراج میں کمی کے حوالے سے اپنے وعدوں پر عمل پیرا رہیں گے ۔
برائس لے لوند نے دنیا کے متعدد علاقوں میں توانائی کی قلت اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے خیال میں یہ مختلف ممالک میں توانائی کی منتقلی کی رفتار میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔برائس لے لوند حالیہ موسمیاتی تبدیلی کانفرنس میں مختلف ممالک کے اقدامات کو دیکھنے کے منتظر ہیں۔ انہوں نےخاص طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ چین نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا ہے اور چین کے پیش کردہ کاربن پیک اور کاربن نیوٹرل کے اہداف دنیا کے لیے مزید تقویت کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین نے موسمیاتی تبدیلی کے میدان میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور موجودہ صورتحال میں اسے مزید آگے بڑھانا چاہئے اور تمام ممالک کو اس میں شریک ہونا چاہئے۔
Comments are closed.