اسلام آباد: افغانستان میں انسانی بحران کے ایک نکاتی ایجنڈے پر او آئی سی وزراء خارجہ کونسل کا غیر معمولی اجلاس کل ہوگا۔ کانفرنس کے لیے پارلیمنٹ ہائوس میں انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی ہال کا دورہ بھی کیا۔ مہمانوں کی آمد اورملاقاتوں کا سلسلہ بھی دن بھرجاری رہا۔
اوآئی سی وزرائے خارجہ اجلاس صبح گیارہ بج کر30 منٹ پرشیڈول ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ابتدائی کلمات سے کانفرنس کا آغازہوگا، سعودی وزیر خارجہ ، شاہ محمود قریشی کے بعد کانفرنس سے اظہار خیال کر یں گے، سکریٹری جنرل او آئی سی حسین ابراہیم طہ سعودی وزیر خارجہ کے بعد کانفرنس سے خطاب کریں گے،اسلامک ڈیویلپمنٹ بینک کے صدر بھی کانفرنس سے خطاب کریں گے، پہلے سیشن کے اختتام سے قبل وزیراعظم عمران خان کانفرنس سے خطاب کریں گے، سکریٹری جنرل او آئی سی حسین ابراہیم طہ اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ساڑھے 6 بجے مشترکہ پریس کانفرنس کریں گے
اجلاس میں شرکت کےلیے سیکرٹری جنرل او آئی سی، افغان وزیرخارجہ ملا امیرمتقی، نائجر، کرغستان، بوسنیا، ملائیشیا، ترکمانستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ، اومان کے سیکرٹری خارجہ الشیخ خلیفہ اور جرمنی کے نمائندہ خصوصی جیسپرویک اسلام آباد پہنچ گئے۔ وزیرخارجہ سے افغان اور ملائیشین ہم منصبوں نے ملاقاتیں بھی کیں۔ شاہ محمودقریشی کا کہنا تھا کہ 15 اگست سے پاکستان، افغانستان کی معاشی و انسانی صورتحال کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کروانے کیلئے مسلسل کوشاں ہے۔ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کا انعقاد انہی کاوشوں کی ایک کڑی ہے۔
او آئی سی وزراء خارجہ اجلاس میں افغانستان میں انسانی المیے کے حوالے سے غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں افغانستان میں معاشی و اقتصادی بحران سے نمٹنے پر بھی مشاورت ہوگی۔ افغانستان میں خوراک و ادویات کی قلت اور بے گھر افراد کی امداد پر نئے پہلو تلاش کیئے جائیں گے۔ او آئی سی وزراء خارجہ 17 واں اجلاس افغانستان کی مدد کے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے ۔
Comments are closed.