پاکستانی ائیرلائنز پر عائد پابندیاں ختم، یورپ کے لئے پروازیں بحال ہونے کا امکان

ہوا بازی کی عالمی تنظیم  انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن ( اکاؤ) کی جانب سے ڈی جی سول ایوی ایشن کو مراسلہ جاری کیا گیا ہے جس میں سی اے اے پر سے ’سیگنیفکنٹ سیفٹی کنسرن‘ کا اعتراض اٹھانے سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے۔انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کی جانب سے ’سیگنیفکنٹ سیفٹی کنسرن‘ اعتراض اُٹھانے سے پاکستان کی سول ایوی ایشن پر عائد سفری پابندیاں بھی ختم ہوجائیں گی۔ جس کی روشنی میں دوسرے مرحلے میں الیکٹرانک بلیٹن جاری کیا جائے گا۔

سول ایوی ایشن پر اکاؤ کے اس اعتراض کے خاتمے سے یورپی یونین کی جانب سے بھی پاکستان پر عائد سفری پابندیاں بھی اُٹھائے جانے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں جس پر سول ایوی ایشن نے برطانیہ اور یورپی یونین سے رابطے شروع کر دیئے ہیں۔سول ایوی ایشن برطانیہ اور یورپی یونین ایئر سیفٹی ایجنسی کو سی اے اے کی جانب سے حفاظتی خدشات کے حل کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا اوراس بات پر زور دیا جائے گا کہ پاکستانی رجسٹرڈ ایئر لائنز کو جلد از جلد برطانیہ اور یورپ کے لیے آپریشن کی اجازت دی جائے۔

پائلٹ لائسنس اسکینڈل نے پاکستان کی ایوی ایشن انڈسٹری اور پی آئی اے کو بہت نقصان پہنچایا اور اسی کی وجہ سے یورپ اور امریکا کی جانب سے پروازوں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔گزشتہ برس جون میں پاکستان نے ایئر لائن کے 262 پائلٹس کو اہلیت کی جانچ پڑتال کے امتحانات کے لیے گراؤنڈ کردیا تھا، یہ کارروائی کراچی میں 2020 میں ایک ہوائی جہاز کے حادثے کی ابتدائی رپورٹ کے بعد کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ عالمی ہوابازی کی تنظیم اکاؤ نے دسمبر میں پاکستان سول ایوی ایشن کا مکمل آڈٹ کیا تھا جس میں سی اے اے نے 72.77 فیصد رینکنگ حاصل کی تھی جس پر اکاو نے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔27 جنوری 2021کو عالمی تحفظات دور کرنے کے لیے پائلٹ لائسنس امتحانات آؤٹ سورس کروانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

سول ایوی ایشن کے کمرشل/ایئر لائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس سمیت تمام لائسنسنگ امتحانات اس وقت معطل کردیے گئے تھے وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے غیر ذمہ دارانہ بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ 262 پاکستانی پائلٹس کے لائسنس جعلی تھے۔ان کے بیان کے بعد یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے پاکستان کی تیسرے ملک کے لیے آپریشن کی اجازت معطل کردی تھی اور بعد ازاں معطلی میں مزید تین ماہ کی توسیع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یورپی کمیشن اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (آئی سی اے او) کی طرف سے تحقیقات کی تصدیق کی گئی ہے۔

Comments are closed.