دنیا کے مختلف ملکوں کے پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کا درجہ 108 رہا ہے جو گزشتہ برس 113 تھا۔2022 کی پاسپورٹ رینکنگ کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں پانچ درجے کی بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔2018 میں پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ 104 درجے پر تھی جو موجود رینکنگ سے چار درجے بہتر تھی
دنیا کے مختلف ملکوں کے پاسپورٹ کی رینکنگ جاری کرنے والے ادارے ہینلے اینڈ پارٹنرز کے مطابق 2006 کے بعد سے پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ مسلسل کم ہوئی ہے۔2006 میں پاکستانی پاسپورٹ کا درجہ 79 تھا جو مسلسل کم ہوتے ہوئے 2012 میں 100 ویں نمبر پر پہنچ گیا تھا۔ 2013 اور 2014 میں رینکنگ میں بہتری ہوئی جس کے بعد یہ 91ویں پوزیشن پر رہا۔
پاسپورٹ رینکنگ کے مطابق 2015 میں پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی جب یہ 14 درجے تنزلی کے بعد 93 سے 107ویں نمبر پر پہنچ گیا تھا۔2021 کا سال بھی پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ کے لیے اچھا نہیں رہا، اس برس 10 درجے کی تنزلی سے رینکنگ 103 سے بڑھ کر 113 ہو گئی ہے۔پاکستان کا پاسپورٹ رکھنے والے افراد بغیر ویزہ کے دنیا کے 31 مختلف ملکوں میں جا سکتے ہیں جب کہ 195 ممالک ایسے ہیں جہاں جانے کے لیے ویزہ درکار ہوتا ہے، جس کے لیے ذاتی طور پر درخواست دینا ہوتی ہے
دوسرے نمبر پر جرمنی اور سنگاپور، تیسرے پر فن لینڈ، اٹلی، اسپین، لگزمبرگ، چوتھے پر آسٹریا، ڈنمارک، فرانس، نیدر لینڈ سوئیڈن، پانچویں پر آئرلینڈ اور پرتگال کے پاسپورٹ رہے، جن کے حامل افراد بالترتیب 190، 189، 188، 187 ممالک بغیر ویزے کے جاسکتے ہیں۔اسی طرح بلیجیئم، نیوزی لینڈ، ناروے، سوئٹزلینڈ، برطانیہ اور امریکا چھٹے، آسٹریلیا، کینیڈا، چیک ری پبلک، مالٹا، یونان ساتویں، پولینڈ اور ہنگری آٹھویں، لتھوانیا، سلوواکیا نویں اور ایسٹونیا، لیٹویا، سلووینیا کے پاسپورٹ دسویں نمبر پر رہے، جن کے حامل افراد بالترتیب 186، 185، 183، 182، 181 ممالک کا بغیر اجازت سفر کرسکتے ہیں۔
پاسپورٹ کی رینکنگ میں شمالی کوریا 104، نیپال اور فلسطین 105، صومالیہ 106، یمن 107 ، پاکستان 108، شام 109، عراق 110 اور افغانستان کا پاسپورٹ سب سے آخری یعنی 111 ویں نمبر پر رہا۔ہینلے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاسپورٹ کی درجہ بندی انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کی مانیٹرنگ اور فراہم کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔
Comments are closed.