امریکا کی یکم مئی تک افغانستان سےآدھی فوج نکالنےکی یقین دہانی

دوحا: افغان طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکہ نے یکم مئی تک افغانستان سے آدھی فوج نکالنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

طالبان مذاکراتی وفد کے عہدیداران عبدالسلام حنفی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے یقین دلایا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کا عمل رواں ماہ سے شروع ہو جائے گا۔ جب کہ امریکی افواج کی جانب سے فوجی انخلا کا ٹائم فریم دیئے جانے کی تردید کی گئی ہے۔

 عبدالسلام حنفی نے ماسکو میں افغان طالبان اور اہم شخصیات کے درمیان ملاقات کی سائیڈ لائن پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ امریکی حکام نے بتایا ہے کہ فروری کے آغاز سے وسط اپریل تک آدھے فوجی افغانستان سے واپس بلا لے گا‘‘۔

دوسری جانب پینٹا گون کے فوجی ترجمان  کرنل راب میننگ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کو تاحال افغانستان سے واپسی کا کوئی حکم نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات جاری ہیں لیکن محکمہ دفاع کو ابھی تک افغانستان میں امریکی فوج کے اسٹرکچر میں تبدیلی کی کوئی ہدایت نہیں ملی‘‘۔

کابل میں امریکی فوج کے ترجمان نے بھی فوری طور پر فوجی انخلاءکی خبروں کی تردید کی ہے۔ غیرملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’’ افغانستان کے دہشتگردی کے لیے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال ہونے سے روکنے کیلئے تمام فریقین ضروری اقدامات کریں  تو ایسے میں لیکن ایسے میں ہم فوج کی موجودگی کے معاملے پر تبدیلی کے لیے تیار ہیں۔

Comments are closed.