لاہور: سابق وزیراعظم میاں نواز شریف 5دن سروسزاسپتال میں رہنے کے بعد واپس جیل منتقل ہو گئے۔ مریم نوازکہتی ہیں حکومت سے نہ کبھی علاج کی درخواست کی اورنہ ہی کریں گے۔ والدہ کی بیماری کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ سابق وزیراعظم نے صاف کہہ دیا تھا کی وہ خانہ بدوش نہیں۔
سابق وزیراعظم میں نوازشریف بغیر دل کے علاج کے واپس جیل منتقل ہوگئے۔ مریم نوازنے ٹویٹ کیا کہ ان کی والد کو ایک کے بعد دوسرے اسپتال میں منتقل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ لیکن سابق وزیراعظم نے واضع کیا کہ وہ تضحیک کا نشانہ نہیں بنیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ آزمائش بڑی ضرور ہے لیکن ان کا توکل خدا پرہے۔مریم نوازکا کہنا تھا کہ اگر ان کے والد کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر ہو گی۔
سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ اگر ایک شخص کا علاج سروسزمیں ممکن نہیں تھا تو اس کو لایا کیوں گیا۔علاج ان کا حق ہے۔
اس سے قبل میں نواز شریف کے والدہ بیگم شمیم بیٹے سے ملنے سروسز اسپتال پہنچیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ ان کے بیٹے کو صحت دے۔۔ دونوں بیٹوں نوازشریف اور شہباز شریف کیلئے دعا گو رہتی ہیں۔
مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما جاوید ہاشمی بھی نوازشریف کی مزاج پرسی کیلئے اسپتال پہنچے مگرجیل حکام نے محکمہ داخلہ کی اجازت نہ ہونے پر انہیں ملنے نہیں دیا۔
میڈیا سے گفتگو میں جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں نےجمہوریت کیلئے جنگ کی ہے۔ مریم وقت آنے پرسب سے آگے ہونگی۔
سابق وزیراعظم میاں نوازشریف جیل واپس جانے سے قبل اپنی والدہ اوربیٹی سے ملے۔ جس کے بعد سخت سیکیورٹی حصار میں واپس جیل منتقل ہو گئے۔ اس موقع پرکارکنوں کی بڑی تعداد نے سابق وزیراعظم کی گاڑی کو گھیرے رکھا اور نعرے بازی کرتے رہے۔
Comments are closed.