اصغرخان کیس میں ایف آئی اے نے ہاتھ کھڑے کر دئیے

اسلام آباد: اصغر خان کیس میں تفتیشی ایجنسی ایف آئی اے نے حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ مقدمے کی سول اور فوجی تقسیم سے تفتیش میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تمام سیاستدانوں نے رقوم کی وصولی جبکہ فوجی افسران نے رقوم کی براہ راست تقسیم سے انکار کیا۔ تفتیش بند گلی میں داخل ہو چکی ہے سپریم کورٹ رہنمائی کرے۔

1990 کے انتخابات میں سیاستدانوں کو کروڑوں روپے کی تقسیم کی تفتیش کرنے والے ایف آئی اے نے ہاتھ کھڑےکردئیے۔ مزید تفتیش جاری رکھنے پر بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمے کی سول اور فوجی تقسیم سے تفتیش میں مشکلات کا سامنا ہے۔

 رپورٹ میں ایف آئی اے نے کہاہے کہ مقدمے میں سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ سمیت 17 لوگوں کے بیانات قلمبند کئے گئے جبکہ 12 لوگ وفات پا چکے ہیں۔ معاملے کو حتمی انجام تک پہنچانے کی بھرپور سعی کی،تاہم اس میں بعض ایسی رکاوٹیں حائل ہیں کہ تفتیش بند گلی میں داخل ہو چکی ہے۔مزید تفتیش کے لئے سپریم کورٹ رہنمائی کرے۔

 رپورٹ میں کہاگیاہے جکہ تمام سیاستدانوں نے رقوم کی وصولی جبکہ فوجی افسران نے رقوم کی براہ راست تقسیم سے انکار کیا۔بریگیڈئر حامد سعید نے بتایا کہ رقومات سندھ میں تقسیم کی گئیں لیکن جن افسران نے رقومات تقسیم کیں ان کے نام نہیں بتائے۔سیاستدانوں کو رقومات کی تقسیم سے متعلق رسیدیں بھی فراہم نہیں کی گئیں۔

بریگیڈئیر حامد سعید کے مطابق رسیدیں جی ایچ کیو بھجوا ئی گئیں جبکہ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے ایسی رسیدوں کے وجود سے ہی انکار کیا۔حساس ادارے کے جن افراد نے رقومات تقسیم کیں ان کی معلومات اور مطلوبہ بینک کھاتوں کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔

وزارت دفاع نے فیصلہ کیا کہ ملوث فوجی افسران کے خلاف خود کاروائی کی جائے گی اور ان کے نام ایف آئی اے کے ساتھ شیئر نہیں کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ ایف آئی اے اس سے پہلے بھی سپریم کورٹ کو مذکورہ معاملہ بند کرنے کی سفارش کر چکی ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے اصغر خان کے ورثاء کے بیان کی روشنی میں تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔

Comments are closed.