الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کو نا اہل قرار دے دیا 

  اسلام آباد:الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے فیصلے کے مطابق فیصل واووڈا نے جھوٹا بیان حلفی جمع کروایا۔الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو بطور ایم این اے تمام مراعات واپس کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ 2 ماہ میں تمام تنخواہیں اور مراعات واپس جمع کرائی جائیں۔ الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کی سینیٹ کی رکنیت کا نوٹی فکیشن بھی واپس لینے کا حکم دے دیا۔

فیصل واوڈا نااہلی کیس 21 جنوری 2020 کو الیکشن کمیشن میں دائر کیاگیا۔ الیکشن کمیشن نے قادر مندوخیل ، میاں فیصل اور میاں آصف محمود کی درخواستوں پر فیصل واوڈا کے خلاف پہلی سماعت 3 فروری 2020 کو کی۔ اس دوران فیصل ووڈا نا اہلی کیس کی 23 سماعتیں ہوئیں ۔۔ 22 ماہ سے زائد عرصے تک زیر سماعت رہنے کے بعد الیکشن کمیشن نے 23 دسمبر 2021 کو اس کیس کافیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ فیصل واوڈا کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی زیر سماعت رہا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو دو ماہ میں معاملہ نمٹانے کی ہدایت کی تھی۔ فیصل واوڈا نےالیکشن کمیشن کو نااہلی کیس کے فیصلے سے روکنے کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا۔ مارچ 2021 میں فیصل واوڈا بطور رکن قومی اسمبلی مستعفی ہوکر سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔

  فیصل واوڈ اکے خلاف دائر درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیاتھا کہ الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت فیصل واوڈا امریکی شہریت رکھتے تھے، فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن کے سامنے دہری شہریت نہ ہونے کا جھوٹا حلف نامہ جمع کرایا۔ فیصل واوڈا دوہری شہریت چھپا کر اور جھوٹا حلف نامہ دے کر بددیانتی کے مرتکب ہوئے ، اس لیے انہیں عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیا جائے ۔

Comments are closed.