صدرٹرمپ جنوبی کوریا میں فوجی خدمات کےعوض مطلوبہ رقم نہ ملنے پر برہم

واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی فوجیوں کی خدمات کے عوض ملنے والی رقم 1.2 ارب ڈالر کے بجائے 89 کروڑ ڈالر کرنے پر جنوبی کوریا پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا نے صدر ٹرمپ کے 1.2 ارب ڈالر کے مطالبے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی سرزمین پر موجود امریکی فوجی دستوں کی خدمات کے عوض سالانہ رقم 85 کروڑ ڈالر سے 89 کروڑ ڈالر کیا تھا۔

دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کے باوجود امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سالانہ رقم میں صرف 4 کروڑ ڈالر اضافے پر برہمی کا اظہار کیا اور امریکی فوجیوں کی خدمات کے عوض سالانہ معاوضہ ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کرنے کے مطالبے کو ایک بار پھر دہرایا۔

جنوبی کوریا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مزید50 کروڑڈالر کی ادائیگی کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیارکیا کہ رقم کی ادائیگی نئے معاہدے کے تحت ہی کی جائیں گی جس پر دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے دستخط موجود ہیں اور جو جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ سے بھی منظور ہوچکا ہے۔

واضح رہے کہ امریکی فوجی دستے جنوبی کوریا میں 1950ء سے 1953ء کے درمیان ہونے والی کوریائی جنگ کے وقت سے تعینات ہیں اور امریکا اس مد میں سالانہ خطیر رقم وصول کرتا ہے۔

Comments are closed.