سپریم کورٹ نے میموگیٹ اسکینڈل کیس نمٹا دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے میمو گیٹ سکینڈل کو غیرضروری معاملہ قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کہتے ہیں کیا ریاست پاکستان مسلح افواج اور ہمارا آئین اتنا کمزور ہے کہ ایک میمو سے ڈر جائیں؟ ہم اتنے کمزورنہیں۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس کیس کے درخواست گزار کدھر ہیں جس ہر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ درخواست گزاران میں سے کوئی بھی نہیں آیا۔ میمو گیٹ سکینڈل میں وطن پارٹی کے علاوہ میاں نوازشریف،غوث علی شاہ اور اسحاق ڈار شامل ہیں، چیف جسٹس نے درخواست گزاروں کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگردرخواست گزار نہیں آئے تو ہم یہاں کس لیئے بیٹھے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ آٹھ سال پرانا معاملہ ہے آٹھ سال سے عدالت کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے اس معاملے میں عدالتی کمیشن کی رپورٹ جمع ہو چکی ایف آئی آر درج ہو چکی اب یہ ریاست کا معاملہ ہے کہ کیا وہ اس معاملے پر کاروائی جاری رکھنا چاہتی ہے، حسین حقانی کی گرفتاری اور ٹرائل ریاست کا معاملہ ہے عدالت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس دیئے کہ ریاست پاکستان، مسلح افواج اور ہمارا آئین اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ ایک میمو سے ڈر جائے ہم اتنے کمزور نہیں ہیں۔ اللہ کا کرم ہے یہ بڑا مضبوط ملک ہے، وفاقی حکومت کے نمائندہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آٹھ سال پرانے معاملے پر ریاست اب بھی خوف محسوس کرتی ہے اصل معاملہ میمو کا ہے جو امریکی حکومت کو لکھا گیا عدالت نے تمام درخواستوں کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا۔

Comments are closed.