مونال ریسٹورنٹ سیل کرنے کا حکم نامہ معطل،ریسٹورنٹ ڈی سیل کرنے کا حکم

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے مونال ریسٹورنٹ کو سیل کرنے کا غیر دستخط شدہ حکم نامہ معطل کرتے ہوئے ریسٹورنٹ کو ڈی سیل کرنے کا حکم دے دیا۔عدالت نے کہاہے کہ زبانی حکم کی کوئی آئینی و قانونی حیثیت نہیں ہوتی، کیا یہ بادشاہت ہے کہ شہنشاہ نے فرمان جاری کیا اور دستخط سے پہلے ہی عمل ہوگیا۔باقی ریسٹورنٹس کو نوٹس دئیے گئے تو مونال کو کیوں نہیں؟ لگتا ہےمونال کو الگ سے ٹارگٹ کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ میں مونال ریسٹورنٹ سیل کرنے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ مونال ریسٹورنٹ کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کے مختصر حکم کی تصدیق شدہ کاپی دستیاب ہے نہ تفصیلی فیصلہ، انٹراکورٹ اپیل دو مرتبہ مقرر ہوئی لیکن سماعت سے قبل ہی کیس منسوخ ہوگیا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ وائلڈ لائف بورڈ تو فریق ہی نہیں تھا پھر سیل کرنے میں پھرتی کیوں دکھائی؟ مارگلہ ہلز پر آج تک کتنے ریسٹورنٹ سیل کیے گئے ہیں؟ وکیل وائلڈ لائف بورڈ نے کہا کہ گلوریا جینز اور لامونتانا کو نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔ تحریری عدالتی حکم سے پہلے ہی ریسٹورنٹ سیل کیسے کیا گیا؟ اصولی طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا کوئی حکم موجود نہیں۔

جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ زبانی حکم کی کوئی آئینی و قانونی حیثیت نہیں ہوتی، کیا یہ بادشاہت ہے کہ شہنشاہ نے فرمان جاری کیا اور دستخط سے پہلے ہی عمل ہوگیا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ باقی ریسٹورنٹس کو نوٹس دئیے گئے تو مونال کو کیوں نہیں؟ لگتا ہےمونال کو الگ سے ٹارگٹ کیا گیا ہے، مونال کے لیے بھی قانون پر عمل ہوتا تو مسئلہ نہیں تھا۔وکیل سی ڈی اے نے کہا مونال کی لیز چھ ماہ پہلے ختم ہو چکی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے سی ڈی اے اور مونال کے تنازع کا فیصلہ متعلقہ سول کورٹ ہی کرے گی۔ دوران سماعت بار بار مداخلت پر عدالت نے چئیرپرسن وائلڈ لائف بورڈ رعنا احمد کو سرزنش کرتے ہوئے روسٹرم سے ہٹا دیا جبکہ مزید سماعت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردی گئی۔

Comments are closed.