اسلام آباد : چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کے دوران مجھے 100 فیصد یقین تھا گولی چلنی ہے۔ہماری طرف بھی لوگ تیارہوگئے تھے۔جنہوں نے پستول رکھے ہوئے تھے۔مجھے خوف ہوگیا کہ اگلا مرحلہ یہ ہوگا کہ اب یہاں انتشار ہوگا۔جس سے ہونا یہ تھا کہ پولیس کےخلاف نفرت۔ملک میں تقسیم اور اس کا فائدہ صرف ان چوروں کو ہونا تھا۔
نجی ٹی وی کو انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ مجھے یہ لگا تھاکہ ہم ملک میں انتشار کی طرف جا رہے ہیں۔جو انہوں نے پولیس سےکرایا۔پولیس کےخلاف نفرت پہلے ہی بڑھ گئی تھی۔مجھے دیکھ کر انہیں اور جوش میں آنا تھا۔مجرموں نے کہنا تھا یہ توانتشارہورہاہےیہ قاتل ہے۔
عمران خان نے کہا کہ پولیس والا رات کسی کےگھر چھلانگ مار کر آجائے تو وہ تو سمجھے گا ڈاکو آگیا ہے۔اس واقعےکو انہوں نے بنادیا کہ پی ٹی آئی کی طرف سےہوا۔ 26 سال کی تاریخ ہے ہم نے کبھی انتشار کی پالیسی نہیں کی۔
دوسری جانب برطانوی ٹی وی سکائی نیوز کو انٹرویومیں عمران خان کا کہنا تھا کہ عراق۔افغانستان یا یوکرین تمام ملٹری اپریشنز کیخلاف ہوں۔مجھے 22 کروڑ عوام نے منتخب کیا تھا میری ذمہ داری میرا ملک تھا۔مجھے اس لئے منتخب نہیں کیا گیا تھا کہ دنیا کی غلطیوں کو ٹھیک کروں۔5 کروڑ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے رہ رہے ہیں۔چین ۔روس اور امریکا سے تعلقات میں میرے لوگوں کا فائدہ تھا۔بھارت نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کی۔بھارت نے کشمیریوں سے حق چھینا۔کیا کسی نے اس پر بات کی۔بھارت کی مذمت اس لئے نہیں کی جاتی کیونکہ وہ ان کا اتحادی ہے۔امریکی رجیم چینج سے جو حکومت لائی گئی ہے اس میں 60 فیصد مجرم ہیں۔الیکشن چاہتے ہیں۔عوام کو فیصلہ کرنے دیں وہ کس کس کو منتخب کرتے ہیں۔
Comments are closed.