غداری کیس میں تاخیر، مشرف کی واپسی کیلئے اقدامات پر رپورٹس طلب

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے وفاقی حکومت بتائے کہ پرویز مشرف کی واپسی کیلئے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں، رجسٹرارآفس غداری کیس کےٹرائل میں تاخیر پر رپورٹ پیش کرے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کیا کسی ملزم کے ہاتھوں حکومت یرغمال اور عدالت بے بس ہو سکتی ہے، کوئی مجرم چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا ، عدالت طےکرےگی آیا مشرف جان بوجھ کرعدالت میں پیش نہیں ہو رہے ۔

پرویزمشرف کیخلاف سنگین غداری کیس سے متعلق درخواست کی سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے سابق صدر کے ٹرائل میں تاخیر پر رجسٹرار آفس کو پندرہ روز میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا جب کہ خصوصی عدالت میں مقدمے کے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے گئے۔ حکومت کو مشرف کی واپسی کیلئے اقدامات کی تفصیلات 25 مارچ کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔

لاہورہائیکورٹ بار کی نظرثانی درخواست پر سماعت کے دوران ، وکیل توفیق آصف نے بتایا پرویز مشرف ملک سے باہر ہیں ٹرائل رکا ہوا ہے ، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نےاستفسارکیا حکومت نےاب تک مشرف کو بلانےکیلئےکیا کیا ہے؟ عدالت نہیں حکومت نے انہیں جانے دیا تھا ، مشرف کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ہوسکتا ہے ، اگر پھر بھی بیان نہیں دیتے تو سمجھا جائے گا کہ وہ انکاری ہو گئے ہیں ، خصوصی عدالت ہر سوال کے آگے ملزم کی جانب سے انکار کا لکھ سکتی ہے ۔

عدالت نے قرار دیا کہ عبد المجید ڈوگر کے مقدمے میں خصوصی عدالت کو سنگین غداری کیس کا جلد از جلد ٹرائل کرنےکی ہدایت کی گئی تھی ، مشرف کےملک میں نہ ہونے کی وجہ سے ٹرائل رکا ہوا ہے۔  اٹارنی جنرل اگلی سماعت پروفاقی حکومت کا جواب جمع کرائیں کہ اب تک مشرف کی واپسی کیلئے کیا اقدامات اٹھائے گئے، رجسٹرار آفس ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات پر مبنی رپورٹ دے۔ چیف جسٹس نے کہا گذشتہ ڈیڑھ ماہ میں زیرالتوا مقدمات کی تعداد میں 2000 کی کمی ہوئی ، آج کا کام کل پر نہیں چھوڑیں گے ۔

Comments are closed.