اسلام آباد: احتساب عدالت نے سرکاری زمین الاٹ کرکے قومی خزانے کو 80 کروڑ روپے نقصان پہنچانے کے ریفرنس میں گرفتار آفتاب احمد میمن 13 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ہے ۔عدالت نے آئندہ سماعت سے قبل طبی معائنہ کرا کے میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کر دی ۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم نے سارا ریکارڑ چھپا رکھا ہے ۔ گرفتاری کے بغیر یہ ریکارڈ نکلوانا ممکن نہیں تھا ۔
جعلی اکاونٹس کیس کے ملزم آفتاب میمن کو احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش کیا گیا۔ نیب پراسیکیوٹر واثق ملک نے ملزم کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ جعلی بنک اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات جلد مکمل کرنے کے لئے یہ گرفتاری ضروری تھی ۔ملزم نے بہت سا ریکارڈ چھپا رکھا ہے۔ملزم کی گرفتاری کے بغیر یہ ریکارڈ نکلوانا ممکن نہیں تھا ۔ملزم نے سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ سے قومی خزانے کو 80 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان پہنچایا۔ مزید تفتیش کے لیے دستاویزات حاصل کرنی ہیں۔
جج احتساب عدالت نے کہا زمین الاٹ کرنے والی کمیٹی کے دیگر ممبران کو بھی شامل تفتیش کریں،ملزم کا اعتراض ہے کہ صرف انہیں ریفرنس میں ملزم نامزد کیوں کیا گیا ؟جس پر نیب نے بتایا کہ کمیٹی کے باقی ارکان سے بھی تفتیش جاری ہے۔ دوران سماعت ملزم آفتاب میمن بار بار بولتے رہے جس پر جج نے کہا آپ آگے آ جائیں اور بتائیں کیا کہنا چاہتے ہیں؟ آخری استدعا اس کی سن لیتے ہیں، ایسا نہ ہو کہ بیمار ہو جائے۔ ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہہ بلند ہوا۔
Comments are closed.