اسلام آباد: قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے ملک کے ہر ضلع میں ماڈل کورٹ بنانے کی منظوری دیدی ۔ ضلعی ماڈل کورٹس پرانےفوجداری مقدمات کی سماعت کریں گی اور 4 دن سے ایک ہفتےمیں فیصلہ کرنےکی پابند ہوں گی۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس سپریم کورٹ اسلام آباد میں ہوا۔ جس میں ملک بھر میں ضلعی ماڈل کورٹس بنانے کا فیصلہ کیا گیا، ہائیکورٹس کے چیف جسٹس کو ماڈل کورٹس کے لئے ججز نامزد کرنے کی ہدایت کی گئی۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ضلعی ماڈل کورٹس میں مقدمات کی سماعت کے دوران التوا نہیں دیا جائے گا ، ماڈل کورٹس چار دن سے ایک ہفتے میں مقدمات کا فیصلہ کریں گی۔ قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے مطابق ماڈل کورٹس میں گواہان کو لانے کی ذمہ داری پولیس کی ہوگی، شواہد اوربیان ویڈیو لنک پر بھی ریکارڈ ہو سکیں گے، ماڈل کورٹس ایک دن سے زیادہ فیصلہ محفوظ نہیں رکھ سکیں گی۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ خصوصی عدالتوں ٹربیونلز اور ماتحت عدلیہ میں ججز کی خالی آسامیوں پر بھی بھرتیاں کی جائیں۔ سیکرٹری قانون و انصاف نےاجلاس کوبتایا کہ گذشتہ پانچ برسوں میں 1 کروڑ ، 89 لاکھ نئےمقدمات داخل ہوئے، جبکہ ایک کروڑ، 88 لاکھ ، 26 ہزار مقدمات کا فیصلہ کیا گیا ، عدلیہ نے گذشتہ سال میں 34 لاکھ ، 86 ہزار مقدمات نمٹائے ، زیرالتوا مقدمات 18 لاکھ 70 ہزارسے کم ہو کر17 لاکھ ، 25 ہزار رہ گئے۔
Comments are closed.