عمران خان نے نا اہلی فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا، پیر کو سماعت
پاکستان تحریک انصاف کی آج ہی سماعت کی استدعا مسترد،الیکشن کمیشن کے پاس کرپٹ پریکٹسز کے تحت کارروائی کا حکم دینے اور نااہلی کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں تھا،فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے:درخواست میں موقف،رجسٹرار آفس کی جانب سے درخواست پراعتراضات
اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں نااہلی کے فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس کرپٹ پریکٹسز کے تحت کارروائی کا حکم دینے اور نااہلی کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں تھا۔فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔عدالت پیر کو سماعت کرے گی۔رجسٹرار آفس کی جانب سے درخواست پراعتراضات بھی عائد کئے گئے ہیں۔
عمران خان کے وکیل بیرسٹرعلی ظفر کی جانب سے دائر درخواست میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قراردینے کی استدعا کرتےہوئے موقف اپنایا گیا ہے کہ تیس ہزارروپے سےکم کے تحائف بغیرادائیگی لیے جاسکتے ہیں۔تیس ہزار سے زائد کے تحائف پچاس فیصد ادائیگی پر لیے جاسکتے ہیں۔اس سے قبل 30 ہزار سے زائد والے تحائف 20 فیصد ادائیگی پر حاصل کئے جا سکتے تھے۔عمران خان نے 20 اور 50 فیصد ادائیگی کے ساتھ 2018 سے 2021 تک 14 تحائف حاصل کئے۔الیکشن ایکٹ کے تحت ارکان پارلیمنٹ نے 30 جون تک دستیاب اثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو جمع کرانی ہوتی ہیں۔30 جون سے پہلے اثاثہ فروخت ہونے کی صورت میں تفصیل فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔اثاثہ فروخت ہونے کی صورت میں اسکی فروخت کی تفصیل جمع کرانی ہوتی ہے۔درخواست گزار نے ہر سال اثاثوں کی تفصیلات رقوم کی صورت میں الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس نااہلی کرنے کا اختیارنہیں۔وکیل نے درخواست آج ہی سماعت کیلئے مقرر کرنے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔سماعت پیر کوہوگی۔جسٹرار کی جانب سے عمران خان کے بائیومیٹرک کی تصدیق نہ ہونے اوردرخواست کے ساتھ فیصلے کی مصدقہ نقول نہ لگانے کا اعتراض عائد کیا گیا۔
Comments are closed.