سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں نامزد چار انتہاء پسند ہندو بری

نئی دہلی: دوسری پر دہشت گردی کے فتوے لگانے والے بھارت کی عدالتیں ہندو انتہا پسندوں کے خوف میں مبتلا ہیں، بھارتی عدالت نے سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان چاروں ہندو انتہاء پسندوں کو بری کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں بھارتی عدالت نے پاکستانی درخواست مسترد کر دی ہے اور چاروں ملزمان کو بری کر دیا ہے۔بھارتی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی ایک خصوصی عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس کیس کا فیصلہ سنایا۔

واضح رہے کہ ہندو انتہاء پسندوں نے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کروائے جن میں 42 پاکستانی شہید ہوئے۔ جب کہ واقعے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 70 تھی۔

بھارتی خصوصی عدالت کی چارج شیٹ میں مجموعی طور پر 8 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔ جن میں نابہ کمار سرکار عرف سوامی اسیما نند،  لوکیش شرما، کمال چوہان اور راجندر چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔ حملے کا ماسٹر مائینڈ سنیل جوشی 2007 میں ایک حملے کے دوران مارا گیا تھا۔ مقدمے کے دیگر ملزمان رام چندرا کلسانگرا ، سندیپ ڈانگے اور امین تاحال اشتہاری ہیں۔

بھارت کی نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کی خصوصی عدالت میں 2010 سے ٹرائل جاری ہے، جس میں 224 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

Comments are closed.