اسلام آباد : تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل مسترد کرنے کی استدعا کردی۔ تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں پنجاب الیکشنز نظرثانی کیس میں اپنے جواب میں کہا کہ سپریم کورٹ کو الیکشن کمیشن کے جائزہ لینے کا اختیار ہے۔ آئین میں نہیں لکھا تمام انتخابات ایک ساتھ ہونگے،الیکشن کمیشن کے کہنے پر سپریم کورٹ آئین میں ترمیم نہیں کرسکتی،آرٹیکل 254 کےلئے 90 دنوں میں انتخابات کے آرٹیکل 224 کو غیر موثر نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں پنجاب الیکشنز نظرثانی کیس میں جواب جمع کرا دیا ہے۔ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کی نظرثانی اپیل مسترد کرنے کی استدعاکرتے ہوئے کہا کہ نظرثانی اپیل میں الیکشن کمیشن نے نئےنکات اٹھائے ہیں،نظرثانی اپیل میں نئے نکات نہیں اٹھائےجاسکتے،الیکشن کمیشن نظرثانی اپیل میں نئے سرے سے دلائل دینا چاہتا ہے۔
تحریک انصاف نے اپنے جواب میں کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں کوئی تاریخ نہیں دی،عدالت نے 90روز میں انتخابات کےلئے ڈیڈلائن مقرر کی،صدر مملکت نے انتخابات کےلئے 30 اپریل کی تاریخ دی،الیکشن کمیشن نے 30 اپریل کی تاریخ کو تبدیل کردیا۔ تحریک انصاف نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کافیصلہ کالعدم قرار دیکر 30 اپریل کی تاخیر کو کور کیا،30 اپریل کی تاریخ میں 13 دن کی تاخیر ہوئی،عدالت نے فیصلے میں 13 دن کی تاخیر کو کور کیا،سپریم کورٹ کو الیکشن کمیشن کے جائزہ لینے کا اختیار ہے،الیکشن کمیشن چاہتا ہے سپریم کورٹ نظریہ ضرورت کو زندہ کرے۔
تحریک انصاف نے اپنے جواب میں کہا کہ نظریہ ضرورت دفن کیا چکا جسے زندہ نہیں کیا جاسکتا،90 روز میں الیکشن آئینی تقاضہ ہے،آرٹیکل 218 کی روشنی میں آرٹیکل 224 کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،آئین اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار دیتا ہے،آئین میں نہیں لکھا تمام انتخابات ایک ساتھ ہونگے،الیکشن کمیشن کے کہنے پر سپریم کورٹ آئین میں ترمیم نہیں کرسکتی،آرٹیکل 254 کےلئے 90 دنوں میں انتخابات کے آرٹیکل 224 کو غیر موثر نہیں کیا جاسکتا،آئین کے بغیر زمینی حقائق کو دیکھنے کی دلیل نظریہ ضرورت اور خطرناک ہے۔
تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ایسی خطرناک دلیل ماضی میں آئین توڑنے کےلئے استعمال ہوئی،عدالت ایسی دلیل کو ہمیشہ کےلئے مسترد کرچکی ہے۔
Comments are closed.