اسلام آباد:سابق امیر جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرعبدالرشید ترابی نے پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی کے ساتھ ملاقات کرکے مسئلہ کشمیرا ور فلسطین خاص کر غزہ کی موجودہ تازہ صورت ترین صورتحال پر تبادلہ کیا ہے۔جناب عبدالرشیدترابی نے جلیل عباس جیلانی کیساتھ ملاقات میں امت مسلمہ کے خلاف اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ ،ترکی، تاجکستان اور افغانستا ن کے اپنے حالیہ دوروں کے تناظر میں مشاہدات اورتجاویز پر مشاورت کی ہے ۔قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر پر موثر سفارتی حکمت عملی تشکیل دینے، بھارتی ریاستی دہشت گردی بے نقاب اور فلسطین کے حوالے سے پاکستان کے قائدانہ کردار ادا کرنے کی تجاویز دیں۔ انہوں نے کہا کہ تاجکستان اور سنٹرل ایشیا میں وسیع تر امکانات سے مسفید ہونے کی کوشش کی جائے،انہوں نے مسئلہ کشمیر پر فوکل پرسن کی تقرری اور کشمیری قیادت سے مسلسل مشاورت کا میکنزم وضح کرنے کی تجاویز دیں۔
جلیل عباس جیلانی نے عبدالرشید ترابی کی جانب سے پیش کی گئیں تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اصولی موقف پر قائم ہے کہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کے خودارادیت کے حصول ہی سے حل ہوسکتا ہے۔ اس برحق جدجہد میں پاکستان بطور ریاست اور حکومت کی سطح پر اہل کشمیرکے شانہ بشانہ ہیں اور یہ مسئلہ ہماری خارجہ پالسی کا بنیادی ستون ہے اوربہت جلد ہی کشمیری قیادت کی مشاورت سے ان تجاویز پر اقدامات کئے جائیں گے۔ اسی طرح فلسطینی بھائی بھی اپنے حق خود ارادیت کیلئے تاریخ کی عظیم جدوجہد کررہے ہیں، ان کے قتل عام پر اقوام متحدہ ، او آئی سی اور ہر دستیاب پلیٹ فارم پر پاکستان نے دوٹوک موقف اپناکر واضح کیا ہے کہ فوری طور پرجنگ بند ہو تاکہ اسرائیلی بربریت سے متاثرین کی بحالی کو ممکن بنایا جاسکے اور بین الاقوامی وعدوں اورمعاہدات کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست قائم کرتے ہوئے ان کے حق خودارادیت کا حصول یقینی بنایا جاسکے۔
عبدالرشید ترابی نے جلیل عباس جیلانی کو بتایا کہ افغانستان ہمارابرادرملک ہے ہم نے نامساعد حالات میں بھی لاکھوں مہاجرین کی میزبانی کا فریضہ انجام دیا ہے۔ ہم نے ان عناصر کی افغان حکومت کو نشاندہی کرلی ہے جو وہاں بیٹھ کر پاکستان کیلئے مسائل پیدا کرہے ہیں امید ہے افغان حکومت نوٹس لے گی۔
Comments are closed.