سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ ، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی ختم

 اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے تحت سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی ختم کر دی ۔    سات رکنی لارجر بینچ نے اکثریتی فیصلے میں قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے پاس آرٹیکل 184/3 میں کسی کی نااہلی کا اختیار نہیں۔   عدالتی ڈیکلریشن کے ذریعے باسٹھ ون ایف کی تشریح اسے دوبارہ لکھنے کے مترادف ہے ۔  عدالت نے سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ غیر موثر قرار دے دیا۔  جسٹس یحییٰ آفریدی نے فیصلے سے اختلاف کیا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے تاحیات نااہلی مدت سے متعلق محفوظ فیصلہ سنایا ۔    اکثریتی فیصلے میں قرار دیا گیاکہ سپریم کورٹ کے پاس آرٹیکل 184(3) میں کسی کی نااہلی کا اختیار نہیں۔ آئین میں آرٹیکل 62 ون ایف کی مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔  عدالتی ڈیکلریشن کے ذریعے 62 ون ایف کی تشریح اسے دوبارہ لکھنے کے مترادف ہے جس کا کوئی قانونی طریقہ کار موجود نہیں۔

  عدالت نے کہاایسی تشریح شہریوں کے انتخابات میں حصہ لینے اور پسند کے امیدوار کو ووٹ دینے کے بنیادی حق کو ختم کرتی ہے ۔   ایسا اقدام آئین کے آرٹیکل 17 میں درج حقوق  کے بھی کیخلاف  ہے۔    الیکشن ایکٹ کے تحت نااہلی کی مدت پانچ سال ہے جو نافذ العمل ہے ،اسے پرکھنے کی ضرورت نہیں۔

  سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ چھ ایک کی اکثریت سے سنایا۔  جسٹس یحییٰ آفریدی نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے تاحیات نااہلی کے فیصلے کو درست قرار دیا ۔ جسٹس یحیی ٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ میں لکھاکہ احترام کے ساتھ، میں اکثریتی فیصلے سے متفق نہیں ہوں۔ سمیع اللہ بلوچ کیس میں اخذ نتیجہ قانونی طور پر درست ہے۔ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات ہے اور نہ ہی مستقل ۔ کسی بھی رکن اسمبلی کی نا اہلی عدالتی ڈیکلیریشن باقی رہنے تک برقراررہے گی۔

Comments are closed.